اسلام عصر حاضر میں
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو جائے۔ اس قسم کا انسان بنانا ہی اسلام کا اصل مقصد ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اس قسم کا انسان تشدّد اور جنگ کے ذریعہ نہیں بن سکتا۔ یہ مکل طور پر ایک ذہنی انقلاب اور قلب کی تبدیلی کی بات ہے۔ اور ذہن کا انقلاب اور قلب کی تبدیلی نصیحت اور دعوت کے ذریعہ سے آتی ہے نہ کہ تشدّد اور جنگ کے ذریعہ سے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جنگ جو تاجر یا تشدد پسند تاجر تو یہ ایک متناقض (self-contradictory) اصطلاح ہوگی۔ کیوں کہ کوئی سچا تاجر کبھی جنگجو اور تشدد پسند نہیں ہو سکتا۔ تجارت عین اپنی فطرت کے مطابق آدمی کو امن پسند اور صلح جو بناتی ہے۔ یہی معاملہ اسلام کا بھی ہے۔ اسلام اپنی فطرت کے اعتبار سے مکمل طور پر امن پسند اور صلح پسند ہے۔ اسلام کی دعوت کا کام صرف پر امن حالات میں ہو سکتا ہے، جنگ اور تشدد کے حالات میں اسلام کی دعوت کا کام نہیں ہو سکتا۔ پھر اسلام کیوں کر جنگ اور تشدد کو پسند کر سکتا ہے۔ جب اسلام ایک امن پسند مذہب ہے تو اس کی یہ برعکس تصویر کیسے بنی کہ وہ تشدد پسند ہے۔ اس کا ایک سبب ماضی میں ہے، اور دوسرا سبب حال میں۔ ماضی کا سبب وہ جنگیں ہیں جو رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں پیش آئیں۔ بطور واقعہ یہ درست ہے کہ اس زمانہ میں غیر مسلم قوموں سے کچھ جنگیں پیش آئیں۔ مگر ان جنگوں کا پیش آنا خود اسلام کے اپنے اصولوں کی بنا پر نہ تھا۔ بلکہ اس وقت کی دنیا کے خارجی حالات کی بنا پر تھا۔ یہ جنگیں اس لئے پیش نہیں آئیں کہ اسلام خود لڑنا چاہتا تھا۔ بلکہ وہ اس لئے پیش آئیں کہ دوسرے لوگوں نے لڑائی چھیڑ کر اسلام کو مجبور کر دیا کہ وہ ان سے لڑے۔ اسلام کا ظہور ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے زمانی حالات میں ہوا۔ اس زمانہ کے بارہ میں تاریخ کا مطالعہ بلا اختلاف بتاتا ہے کہ وہ مذہبی تعذیب (Religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ کا انسان عام طور پر اپنے مذہب کے سوا ہر دوسرے مذہب پر ظلم کرنے کو اپنا فطری حق سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس زمانہ میں ہر مذہب کو دوسرے مذہب والوں کی طرف سے تشدّد کا تجربہ پیش آتا تھا۔ مثال کے طور پر مسیحیت اپنی پیدائش کے بعد تقریباً ڈیڑھ ہزار سال تک اکثر تعذیب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader