اسلام عصر حاضر میں
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
(persecution) کا شکار رہی۔ ہر جگہ اس کے افراد کو ستایا جاتا رہا۔ جب کہ موجودہ زمانہ میں وہی مسیحیت ساری دنیا میں اپنے عقیدہ کی کھلی تبلیغ کر رہی ہے اور اس کو کوئی ستانے والا نہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ قدیم مسیحیت میں کوئی سیاسی بغاوت یا جنگی کارروائی کا نظریہ موجود تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو عقیدہ آج مسیحیت کا ہے اس کا وہی عقیدہ پہلے بھی تھا۔ خارجی دنیا کی طرف سے سلوک میں فرق کا سبب تمام تر زمانہ کا فرق (age-factor) ہے۔ قدیم زمانہ مذہبی تعذیب کا زمانہ تھا۔ اس لئے قدیم زمانہ میں مسیحیت کو ستایا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ اس لئے آج مسیحیت کے ساتھ کہیں تعذیب کا سلوک نہیں کیا جاتا ، بلکہ اس کو آزادانہ ماحول میں کام کا موقع مل رہا ہے۔ اسلام کا معاملہ بھی یہی ہے۔ قدیم زمانہ میں اسلام کے ساتھ جنگ کے جو واقعات پیش آئے ، اس کا اصل سبب زمانی حالات تھے نہ کہ خود اسلام کی تعلیم۔ چوں کہ وہ زمانہ مذہبی تعذیب کا زمانہ تھا اس لئے ایسا ہو کہ اسلام نے جب اپنے عقیدہ کی تبلیغ کی تو اگر چہ یہ تبلیغ سراسر پرامن تھی ، مگر دوسرے مذاہب کے لوگ اس سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اس طرح اسلام کی تاریخ میں جنگ کے واقعات شامل ہو گئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے دور اول کی جنگوں کا سبب اصلاً زمانی عامل تھا۔ اب چونکہ یہ زمانی عامل ختم ہو گیا اس لئے اب اس قسم کی جنگوں کا امکان بھی اصولی طور پر باقی نہیں رہا۔ زمانی عامل کا یہ پہلو جن لوگوں کے سامنے نہیں ہے۔ وہ غلط طور پر اس کو اسلام کے اپنے اصولوں کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ حالاں کہ ان کا تعلق خارجی حالات سے تھا نہ کہ خود اسلام کی داخلی خصوصیات یا اس کی اپنی تعلیمات سے۔ اسلام کی متشددانہ تصویر کا دوسرا سبب موجودہ زمانہ میں مسلم ملکوں کے حالات ہیں۔ اس وقت جو مسلم ممالک ہیں ان میں سے ہر ملک میں مسلمان دو بڑے طبقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک وہ جن کو اسلامسٹ کہا جاتا ہے ، دوسرے وہ جن کو سیکولر یا لبرل طبقہ کہتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں عالمی سطح پر غیر مذہب ہی افکار کا غلبہ ہے۔ چناچہ ان مسلم ملکوں میں جب الیکشن ہوتا ہے تو سیکولر یا لبرل طبقہ حکومت کے مناصب پر قبضہ کر لیتا ہے۔ جمہوری روایات کے مطابق اسلامسٹ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader