Urdu book · مضامین اسلام

اسلام عصر حاضر میں

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

طبقہ کو چاہیے کہ وہ میعاد پوری ہونے تک ان لوگوں کے اقتدار کو برداشت کرے مگر اسلامسٹ طبقہ مسلم ملکوں میں حکمرانی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے۔ چنانچہ جب لبرل طبقہ اقتدار کے منصب پر آجاتا ہے تو اسلامسٹ طبقہ اس کو غاصب سمجھ کر اس کے خلاف تشدد اپوزیشن کا کردار ادا کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ اسلامسٹ طبقہ جو کچھ کرتا ہے جوں کہ اس کو وہ اسلام کے نام پر کرتا ہے۔ اس لئے اس کی فکری یا عملی تشدد پسندی اسلام کے کھاتہ میں چلی جاتی ہے۔ یہ دراصل نام نہاد اسلامسٹ ہیں جو تشدد پسند ہیں۔ مگر ان کی غلط نمائندگی کی وجہ سے لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ خود اسلام اپنی اصولی حیثیت میں ایک تشدد پسند مذہب ہے۔ حالاں کہ یہ محض غلط فہمی ہے اور اصل واقعہ کے سراسر خلاف ہے۔ اس معاملہ میں پیغمبر اسلام کی ایک حدیث ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ جیسے تم ہوگے ویسے ہی تمہارے حکمراں بھی ہوں گے۔ اس حدیث کے مطابق حکمراں طبقہ دراصل سوسائٹی کا نمائندہ ہوتا ہے۔ سوسائٹی جس قسم کے حکمرانوں کو چاہتی ہے ویسے ہی حکمراں اس کے اندر سے ابھر کر اوپر آجاتے ہیں۔ اس لئے اسلام میں واضح طور پر یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تم اگر حکمرانوں میں بگاڑ دیکھو تو براہ راست حکمرانوں سے ٹکراؤ نہ کرو۔ بلکہ سوسائٹی کو بدلنے کی تعمیری کوشش میں اپنے آپ کو لگا دو۔ جس دن سوسائٹی بدلے گی، حکمراں بھی یقینی طور پر بدل جائیں گے۔ سوسائٹی ہی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اس کے اوپر کیسے حکمراں ہوں۔ اس لئے اصل مسئلہ سوسائٹی کو بدلنا ہے نہ کہ غیر ضروری طور پر حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے ان کے خلاف جنگ چھیڑنا۔ مسلم ملکوں کا اسلامسٹ طبقہ پچھلے ۵۰ سال سے فکری یا عملی طور پر اپنے حکمرانوں سے برسر پیکار ہے۔ مگر اس کام سے کوئی بھی مثبت فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔ البتہ جو ہوا وہ یہ کہ غیر واقعی طور پر اسلام کی تصویر تشدد پسندی کی تصویر بن گئی۔ اس اسلامسٹ طبقہ کی مزید غلطی یہ ہے کہ اس نے یہ فرض کر لیا کہ ساری دنیا اسلام کی دشمن ہے۔ اس لئے ان دشمن قوموں کا زور توڑنے کے لئے وہ ان کے خلاف فکری یا عملی جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے تشدد کی جو فضا مسلم ملکوں میں داخلی سطح پر ہے وہی فضا انٹرنیشنل دائرہ میں پھیل گئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page