Urdu book · مضامین اسلام

اسلام عصر حاضر میں

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ یہ مفروضہ بھی سراسر بے معنی ہے۔ موجودہ دنیا میں کوئی بھی اسلام کا دشمن نہیں۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں ہمیشہ ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان مقابلہ جاری رہتا ہے۔ یہی انسان اول کے زمانہ سے ہے اور وہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اس صورتحال کو ہمیں ایک انسانی چیلنج سمجھنا چاہئے نہ کہ اسلام دشمنی یا مسلم عداوت۔ اگر ماضی کے اعتبار سے زمانی عامل کو حذف کر دیا جائے اور حال کے اعتبار سے اسلامک طبقہ کی خود ساختہ سیاست کو حذف کر دیا جائے تو اس کے بعد اسلام کی جو تصویر بنے گی وہ سراسر دین رحمت کی تصویر پر رہے گی، جیسا کہ فی الواقع اصولی طور پر اس کی تصویر ہے۔ دورِ جدید کا چیلنج موجودہ زمانہ میں اسلام کو جو چیلنج پیش آیا اس کو دو بڑی قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک فکری چیلنج اور دوسرا عملی چیلنج۔ فکری چیلنج سے میری مراد وہ چیلنج ہے جو جدید عقلی اور سائنسی تہذیب کی طرف سے پیش آیا ہے۔ جدید عقلیت کے ظہور کے بعد یہ سمجھاگیا کہ اب تمام مذاہب نے اپنا منطقی جواز کھو دیا ہے۔ کہا گیا کہ مذاہب بے بنیاد مفروضات پر قائم تھے۔ سائنسی تحقیقات نے ان مفروضات کو غیر واقعی ثابت کر دیا۔ اس لئے مذاہب بھی سب کے سب غیر واقعی ثابت ہو گئے ہیں۔ یہ چیلنج نہ صرف اسلام بلکہ تمام مذہبوں کے خلاف تھا۔ چنانچہ ہر مذہب کی طرف سے اعلیٰ ذہنوں نے اس کے مقابلہ کی کوشش کی۔ ۱۹ ویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں ہزاروں کی تعداد میں کتا ہیں اور مضامین شائع کئے گئے۔ حتیٰ کہ اب یہ چیلنج زندہ اور مؤثر حالت میں باقی نہیں رہا۔ مثال کے طور پر عقلیت پرست طبقہ نے خدا کے وجود سے انکار کیا۔ اس کے بعد اس موضوع پر نہایت قیمتی کتابیں لکھی گئیں۔ اسی طرح عقلیت پرست طبقہ نے یہ کہا کہ مذہب انسانی فطرت پر مبنی نہیں۔ وہ سماجی روایات کے زیر اثر کسی ایک یا دوسری شکل میں بن جاتا ہے۔ پچھلے سو برس کے اندر اس پر زبردست تحقیقات ہوئیں یہاں تک کہ یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ثابت ہو گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page