اسلام عصر حاضر میں
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
وغیرہ۔ اب بیسویں صدی کے آخر میں اسلام کا اصل چیلنج فکری سطح پر نہیں ہے بلکہ عملی سطح پر ہے۔ عملی چیلنج کے سلسلہ میں بطور واقعہ یہ بات درست ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کو چیلنج یا مخالفانہ صورت حال کا سامنا ہے۔ مگر میں کہوں گا کہ یہ مخالفانہ صورت حال بھی سراسر مصنوعی اور غیر حقیقی ہے۔ وہ خود مسلمانوں کی اپنی بعض نادانیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، وہ اسلام کی اصول کی حیثیت کا نتیجہ نہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے دیکھئے تو آج کی دنیا میں اسلام کے خلاف کوئی چیلنج سرے سے موجود ہی نہیں۔ آج کی دنیا پوری طرح اسلام کے موافق دنیا ہے نہ کہ اسلام کے مخالف دنیا۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے۔ اس وقت ۹۰ ملکوں کے ۱۵۰ سے زیادہ لوگ ، جو مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں، یہاں بلجیم کی راجدھانی میں جمع ہیں تاکہ عالمی امن کے موضوع پر غور و فکر اور دعا کریں۔ وہ نہایت سکون کے ساتھ اپنے طے شدہ پروگرام کو چلا رہے ہیں۔ یہ جمع شدہ لوگ اگر اپنا مقصد یہ بناتے کہ انھیں اس ملک کی حکومت کا تختہ الٹ کر یہاں کے ایڈمنسٹریشن کو اپنے قبضہ میں لینا ہے تو اس ملک میں ان کا تجربہ مختلف ہوتا۔ اب ان کو ہر طرف چیلنج ہی چیلنج دکھائی دیتا۔ مگر جب انھوں نے اپنا مقصد صرف یہ رکھا کہ وہ عالمی امن کے موضوع پر غور و فکر اور دعا کریں گے اور پھر واپس چلے جائیں گے تو یہاں ان کے لئے کوئی چیلنج نہیں۔ وہ پوری طرح آزاد ہیں۔ کہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے پروگرام کی تکمیل کریں اور آخر تک کوئی ان کے راستہ میں خلل ڈالنے والا نہ ہو۔ اسلام کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ہمارے جو بھائی موجودہ دنیا کو اسلام کے لئے چیلنجوں سے بھرا ہوا دیکھتے ہیں۔ انھوں نے در اصل اسلام کی ایک خود ساختہ تعبیر کر رکھی ہے۔ ان کی اس ذاتی تعبیر کے مطابق ، اسلام کا نشانہ یہ قرار پایا ہے کہ وہ سارے عالم پر حکمرانی حاصل کئے ہوئے ہو۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا سیاسی نظریہ بیک وقت سارے عالم سے متصادم ہو جائے گا۔ اس غیر واقعی تصادم کی بنا پر انھیں موجودہ دنیا اسلام کے حق میں چیلنجوں سے بھری ہوئی نظر آئے گی۔ حالانکہ اگر وہ اسلام کو اس کے صحیح معنوں میں لیں تو صورت حال یکسر بدل جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader