اسلام عصر حاضر میں
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ "چیلنج" ایک اضافی لفظ ہے۔ اس کا تعلق اس سے ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا نشانہ کیا مقرر کیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ جو ماحول ایک قسم کا نشانہ مقرر کرنے کی صورت میں چیلنج کا ماحول نظر آتا ہو، وہ دوسری قسم کا نشانہ نہ مقرر کرنے کی صورت میں بالکل بے چیلنج دکھائی دینے لگے۔ چیلنج کو اگر مخالفانہ صورت حال (hostile situation) کے معنی میں لیں تو حقیقی اسلام کے لئے آج سرے سے کوئی چیلنج موجود ہی نہیں۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کو قرآن میں یہ دعا سکھائی گئی تھی کہ اے ہمارے رب ، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا (البقره ۲۸۶) یہ دعا قبول ہوئی اور پچھلے ہزار سال کے دوران اللہ تعالیٰ نے عالمی تاریخ میں ایسے انقلابات پیدا کئے جس کے بعد وہ تمام چیزیں بنیادی طور پر ختم ہوگئیں جو اسلام کے لئے مسائل یا موانع بن سکتی تھیں۔ آج اہل اسلام کے لئے ہر طرف مواقع ہی مواقع ہیں۔ اب اہل اسلام کو کسی مفروضہ چیلنج سے لڑنا نہیں ہے بلکہ ان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ مواقع کو استعمال (avail) کریں۔ اب مسئلہ مشکلات سے لڑنے کا نہیں ہے بلکہ امکانات کو واقعہ بنانے کا ہے۔ یہاں سب سے پہلے یہ متعین کرنے کی ضرورت ہے کہ اسلام کیا ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، اسلام اپنے آپ کو ربانی انسان بنانے کی دعوت ہے۔ چنانچہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اے لوگو، ربانی بنو، (آل عمران ۷۹) ربانی بننے کا مطلب ہے اللہ والا بننا۔ یعنی یہ کہ آدمی کو اپنے رب کی معرفت حاصل ہو۔ اس کی سوچ اور اس کے جذبات پر اللہ کا تصور غالب آچائے۔ وہ اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھنے لگے۔ اس کا قول اور اس کا اخلاق کر دار اللہ کے رنگ میں رنگ جائے (البقرہ ۱۳۸) حقیقت یہ ہے کہ اسلام سراپا ایک امن کا مذہب ہے۔ اسی لئے پیغمبر اسلام کو قرآن میں رحمت عالم کہا گیا ہے (۲۱: ۱۰۷) اسلام بنیادی طور پر احتساب خویش کا مذہب ہے۔ وہ احتساب غیر کا مذہب نہیں۔ اس حقیقت کو سامنے رکھئے تو یہ بات بالکل واضح معلوم ہوگی کہ اس قسم کے نظریہ حیات کے لئے موجودہ ماحول میں کسی چیلنج کا کوئی سوال نہیں۔ اس قسم کے ایک نظریہ حیات کو آج کے بدلے ہوئے حالات میں خوش آمدید کہا جائے گا نہ کہ اس کو چیلنج کیا جانے لگے۔ یا کوئی اس سے لڑنے کے لئے آچائے۔ یہاں ایک شخص کے ذہن میں یہ خیال آئے گا کہ پھر اسلام کے دور اول میں جنگ کے واقعات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader