Urdu book · مضامین اسلام

اسلام عصر حاضر میں

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

کیوں پیش آئے، جب کہ اس دور کو اسلام کی تاریخ میں معیاری دور کی حیثیت حاصل ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے جنگ کو ختم کرنے کے لئے جنگ کی۔ وہ اس لئے لڑے تاکہ آئندہ اہل اسلام کو لڑنا نہ پڑے۔ تاکہ آئندہ لڑے بغیر اسلام کا عمل جاری رہے۔ دورِ اول کے اسلام میں جنگ کا پیش آغاز مانی عامل (age-factor) کی بنا پر تھا نہ کہ خود اسلام کے ابدی اصولوں کی بنا پر۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اس کی ایک مثال مسیحیت کی تاریخ میں ملتی ہے۔ مسیحیت اپنے آغاز کے بعد سے لے کر ڈیڑھ ہزار سال سے بھی زیادہ مدت تک مذہبی تہذیب کا شکار رہی۔ اس کے افراد کو ہر جگہ ستایا جاتا رہا۔ موجودہ زمانہ میں مسیحی چرچ ساری دنیا میں اپنی مذہبی اور دعوتی سرگرمیاں جاری کئے ہوئے ہے، مگر اب کہیں بھی اس کے ساتھ تعذیب کا معاملہ نہیں کیا جاتا۔ اس کا واحد سبب زمانی مانی عامل ہے۔ قدیم زمانہ مذہبی تہذیب کا زمانہ تھا، اس لئے مختلف عقیدہ رکھنے والے لوگ مسیحی افراد کو ستاتے رہتے تھے۔ موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے، اس لئے اب مسیحی افراد کو کہیں بھی ستایا نہیں جاتا۔ یہ ایک معلوم تاریخی حقیقت ہے کہ قدیم زمانہ میں مذہبی روداری نہ تھی۔ ہر جگہ مذہبی تہذیب (religious persecution) کا رواج تھا۔ قدیم زمانہ کا سماج ساری دنیا میں مذہب کے معاملہ میں بے برداشت (intolerant) بنا ہوا تھا۔ چنانچہ دور قدیم کی پوری مذہبی تاریخ مذہبی تہذیب کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ جو مذہبی گروہ اقتدار پر قابض ہو تا وہ چاہنے لگتا کہ اس کے علاوہ دوسرے مذہبی عقائداور مذہبی گروہ باقی نہ رہیں۔ اگر کوئی شخص اسٹیٹ کے مذہب کے علاوہ کوئی اور مذہبی عقیدہ رکھتا یا اسٹیٹ کے طریقہ سے مختلف کسی طریقہ پر عبادت کرتا تو صرف یہی بات اس کے لئے کافی ہو جاتی کہ اُس کو اسٹیٹ کا باغی قرار دے کر اس کو سخت ترین سزا دی جائے۔ اس کی تفصیل جاننے کے لئے انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس کے باب مذہبی تہذیب (religious persecution) کو دیکھنا چاہئے۔ قدیم زمانہ میں آزادی فکر پر پابندی کا یہ طریقہ مسلسل طور پر تاریخ میں جاری ہو گیا تھا۔ یہ نہ صرف مذہبی عمل میں رکاوٹ تھا بلکہ اس نے ہر طرح کی ترقی کا دروازہ بند کر دیا تھا۔ اسلام کا جہاد (یعنی قتال) در اصل اسی ناموافق صورت حال کو ختم کرنے کے لئے تھا۔ چنانچہ قرآن میں حکم دیا گیا کہ اگر ضرورت ہو تو ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page