اسلام عصر حاضر میں
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو جائے اور دین صرف اللہ کے لئے ہو جائے (۸: ۳۹) اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی تعذیب (religious persecution) ہے۔ حکم کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت جنگ کرو جب کہ تعذیب کی حالت، دنیا سے ختم ہو جائے ۔ اور ہر آدمی کو یہ آزادی مل جائے کہ وہ اپنے ضمیر اور اپنے عقیدہ کے مطابق خدائے واحد پر ایمان رکھے اور اس کی پرستش کرے۔ اور اپنے سلوک کو اس کے مطابق ڈھال لے۔ اسلامی جنگ کا مقصد موانع کو ہٹانا ہے، اس کا مقصد اصلاح کا قیام نہیں۔ اصلاح کا قیام پر امن کوششوں سے ہوتا ہے نہ کہ جنگی کارروائیوں سے۔ اس سلسلہ میں ایک انتہائی متعلق واقعہ قابل ذکر ہے۔ پیغمبر اسلام کے اصحاب میں ایک صف اول کے صحابی عبد اللہ بن عمر ہیں۔ پیغمبر اسلام کے بعد ۸۲ سال کی عمر میں (۲۶۹۲، ۳۷ھ) میں ان کی وفات ہوئی۔ عبد اللہ بن عمر کے آخری زمانہ میں ایک جنگ پیش آئی وہ اس وقت مکہ میں تھے۔ مگر وہ اس جنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ کچھ لوگوں نے انھیں مذکورہ آیت (۸:۳۹) یاد دلا کر اصرار کیا کہ انھیں بھی جنگ میں شامل ہو کر لڑنا چاہئے تاکہ فتنہ کی حالت ختم ہو جائے۔ صحیح البخاری کی روایت کے مطابق، عبد اللہ بن عمر نے جواب دیا کہ قرآن میں فتنہ سے مراد مذہبی تعذیب تھی اور اس کو ہم نے لڑ کر ختم کر دیا۔ اب تم لوگ نئے نئے اسباب پیدا کر کے حکمرانوں سے جنگ کر رہے ہو۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ اور نکلنے والا نہیں کہ ختم شدہ فتنہ دوبارہ نئی شکل میں لوٹ آئے۔ فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے بجاطور پر لکھا ہے کہ اسلام کی جنگیں جو بازنطینی امپائر (اور ساسانی امپائر) کے ساتھ پیش آئیں ان کا مقصد مطلق شہنشاہیت (imperial absolutism) کو ختم کرنا تھا۔ چنانچہ جب یہ شہنشاہیتیں ٹوٹ گئیں تو اس کے بعد مسلم فاتحین نے وہاں کے باشندوں پر کسی قسم کا کوئی جبر نہیں کیا۔ خارجی اعتبار سے اسلام کا مطلوب لوگوں کے اوپر سیاسی غلبہ حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ اسلام کا اصل مطلوب یہ ہے کہ اس کو پر امن مواقع کار حاصل رہیں۔ اس اعتبار سے اسلام کا اصل مطلوب صرف تین چیزیں ہیں : ا مذہبی آزادی ، جس کے لئے ان الفاظ میں حکم دیا گیا کہ ۔ اور ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہو جائے (۸: ۳۹)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader