Urdu book · مضامین اسلام

اسلام عصر حاضر میں

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

طرف سے اپنے پیغمبر پر اتارا ہوا نظریہ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا نظریہ خدا کی تخلیقی اسکیم کے خلاف ہے۔ قرآن کے مطابق، انسانوں کو پیدا کر کے زمین پر بسانے کا مقصد آزمائش ہے (۲: ۶۷) یہ اصول جس طرح فرد کے لئے ہے اسی طرح وہ قوموں کے لئے بھی ہے۔ چنانچہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ مختلف قوموں کو ایک کے بعد ایک زمین کا خلیفہ (با اقتدار) بناتا ہے اور اس طرح ہر قوم کو آزما کر دیکھتا ہے کہ وہ کیسا عمل کرتی ہے (۶: ۱۶۵) اس تخلیقی اسکیم کے مطابق ضروری ہے کہ باری باری ہر قوم کو زمین کا چارج دیا جائے۔ تاکہ ہر ایک کو جانچ کر دیکھا جاسکے کہ وہ طاقت پا کر کیسے عمل کرتی ہے۔ کسی ایک گروہ کو ابدی طور پر اقتدار دینے سے یہ مقصد یکسر فوت ہو جائے گا۔ چنانچہ پیغمبر اسلام کے زمانہ میں غزوہ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انھیں رنج ہوا۔ اس وقت قرآن میں کہا گیا کہ اس پر رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں (۳: ۱۴۰) اصل یہ ہے کہ اسلامی تحریک کا نشا نہ حکومت نہیں ہے بلکہ فرد ہے۔ حدیثِ رسول میں آیا ہے کہ جیسے تم ہو گے ویسے ہی تمہارے حکمراں ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تحریک کے عمل کا مقام عام افراد کو بدلنا ہے نہ کہ سیاسی حکمرانوں کو بدلنا۔ اسلام کے داعیوں کی محنت تمام تر افراد معاشرہ پر مرتکز رہے گی۔ البتہ اگر کسی معاشرہ کے بیشتر افراد خدا پرست بن جائیں تو اس کے بعد اس معاشرے جو حکومت ابھرے گی وہ بھی ایک خدا پرست حکومت ہوگی۔ حدیث کی کتابوں میں ”کتاب الفتن“ کے تحت کثرت سے ایسی حدیثیں دیکھی جاسکتی ہیں جن میں سختی سے منع کیا گیا ہے کہ حکمرانوں سے نہ لڑو۔ یہ ایک بے خدا اہم تعلیم ہے۔ اس تعلیم کے ذریعہ پیغمبر اسلام نے یہ متعین کر دیا کہ کسی ملک کے نظام میں جب خرابی دیکھو تو تمہاری کوششوں کا رخ کدھر ہونا چاہئے۔ تم کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ حکمرانوں کو خرابی کا ذمہ دار بتا کر ان سے لڑنے لگو۔ بلکہ تم یہ کرو کہ عوام کی تعمیرِ حسن کے کام میں لگ جاؤ۔ یہ کام بظاہر غیر سیاسی ہے مگر اس کے اندر گہرے سیاسی نتائج چھپے ہوئے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اسلام کی تفکیر مبنی بر نظام (system-based) نہیں ہے بلکہ مبنی بر فرد (individual-based) ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ حکومت کی تبدیلی کے عمل کو فطری انداز پر جاری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page