اسلام عصر حاضر میں
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
حکایت ہے کہ کسی فرد نے اس وقت سے کہ وہ صاحب اس طرح کے نصاب میں احترامِ انسانیت کا درس دیا جاتا ہے حکم کی ہے۔ زلزلہ کسی مرد کے اوپر اس وقت ہے جب کہ وہ صاحب نصاب ہو۔ اسی طرح اجتماعی اور سیاسی قوانین کا تعلق بھی اس مسلم معاشرہ سے ہے جو اس کی استعداد رکھتا ہو۔ جس معاشرہ کے اندر اس کی استعداد موجود نہ ہو اس کے اندر مطلوبہ استعداد پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی ، نہ کہ بزور اس کے اوپر اجتماعی قوانین کو نافذ کیا جانے لگے۔ آخری بات موجودہ زمانہ میں اسلام کے چیلنج پیشِ نظر اصلاحات میں نے اس کے بعد نہیں ملکا انداز سے مرج موجودہ زمانہ میں اسلام کو جو چیلنج درپیش ہے وہ اصلاً باہر سے نہیں ہے بلکہ اندر سے ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اللہ نے تاریخ میں تبدیلیوں کے اسلام کے راستہ سے تمام رکاوٹیں دور کر دی تھیں۔ اب موقع تھا کہ اسلام کو ماننے والے آزادانہ طور پر اسلام پر عمل کریں اور اسی کے ساتھ ان کے لئے یہ موقع بھی تھا کہ وہ تمام دنیا کو اسلام سے متعارف کرنے کی تدبیریں اختیار کریں۔ مگر عین اس وقت اسلام کے ماننے والوں نے مفروضہ چیلنجوں سے لڑنے کے نام پر اپنی راہ میں ایسی دشواریاں پیدا کر لیں جو بہ اعتبار حقیقت آج کی دنیا میں ان کے لئے موجود نہ تھیں۔ یہی آج کا اصل چیلنج ہے اور اسی چیلنج کا مقابلہ کرنے میں اسلام کے مستقبل کا راز چھپا ہوا ہے۔ ہوں ان کا نین ہے اور اس میں ظاہر ہے کہ ہے، کا دار و مدار ہے، اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader