Urdu book · مضامین اسلام

اسلام نظریاتی سپیریاور

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام : نظریاتی سپر پاور تیرھویں صدی قبل مسیح میں مصر کی سرزمین پر ایک واقعہ گزرا۔ یہ واقعہ موسیٰ علیہ السلام کی زندگی سے متعلق تھا۔ قرآن میں اس واقعہ کو بیان کیا گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس واقعہ میں ابدی نصیحت ہے۔ قرآن ایک ابدی کتاب ہے۔ قرآن میں انھیں واقعات کو ریکارڈ کیا گیا ہے جن میں ابدی نصیحت کا سامان ہو۔ موسیٰ علیہ السلام نے جب شاہ مصر فرعون (Ramses II) کو توحید کی دعوت دی اور اپنی صداقت کے ثبوت میں عصا کا معجزہ پیش کیا تو فرعون نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ مصر کے ماہر جادوگروں کو جمع کرے اور ان کے ذریعہ سے موسیٰ کو شکست دے۔ موعد کے مطابق یوم الزینہ کو مصر کے بڑے بڑے جادوگر ایک میدان میں جمع ہوئے۔ موسیٰ کو بھی وہاں بلایا گیا۔ جادوگروں نے کرتَب کرکے اپنی رسیاں اور لکڑیاں پھینکیں تو وہ موسیٰ کو سانپ کی صورت میں اپنی طرف بڑھتی ہوئی نظر آئیں۔ موسیٰ کے لیے بظاہر یہ ایک پر خطر منظر تھا۔ اس وقت جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے : فإذا حبالهم وعصيهم يخيل اليه من سحرهم انها تسعى ۔ فاوچس في نفسه خيفة موسی - قلنا لا تخف انك انت الاعلى ۔ والق ما في يمينك تلقف ما صنعوا انما صنعوا كيد ساحر ولا يفلح الساحر حيث اتى (طه ۶۶-۶۹) قرآن کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ بشری تقاضے کے تحت متحرک سانپوں کو دیکھ کر موسیٰ پر خوف کی کیفیت طاری ہوئی۔ ایسا کیوں ہوا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰ کی نظر فریق ثانی کے ساحرانہ عمل کی طرف چلی گئی ۔ اور خود ان کے اپنے پاس جو زیادہ طاقت ور عصا تھا جو از دوحا بننے کی خداداد صلاحیت رکھتا تھا، اس سے انھیں وقتی طور پر دُہول ہو گیا۔ اللہ کی طرف سے انتباہ کے بعد انھیں اپنے بر تر ہتھیار کا احساس ہوا۔ اس کے بعد ان کی توجہ ساحروں کے سانپوں سے ہٹ کر اپنے عصا کی طرف ہو گئی۔ انھوں نے اس طاقت کو استعمال کیا اور اس کو سانپوں کے سامنے میدان میں ڈال دیا۔ اس کے بعد جو ہوا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page