اسلام نظریاتی سپیریاور
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ قرآن کے الفاظ میں یہ تھا کہ فاذا هی تلقف ما يأفكون ( الاعراف (۱۱۷) اور فألقي السحرة سجدا قالوا آمنا برب هارون وموسى (ط ۷۰) غور کیجئے تو ماضی کی یہ تاریخ حال میں ایک نئی شکل میں لوٹ آئی ہے۔ آج دوسری قومیں اپنے اپنے فن کو استعمال کر کے مسلمانوں کے سامنے مسائل و مشکل کا طوفان کھڑا کیے ہوئے ہیں۔ ان مخالفانہ مناظر کو دیکھ کر مسلمانوں کی وہی حالت زیادہ بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے جس کی تصویر قرآن کے الفاظ میں یہ ہے کہ فأوجس في نفسه خيفة موسىٰ (ط ۶۷) ایسی حالت میں دوبارہ خدا کی کتاب پکار پکار کر مسلمانوں سے وہی الفاظ کہہ رہی ہے جو خدا نے اسی طرح کی صورت حال میں موسیٰ سے کہا تھا۔ یعنی : لا تخف انك انت الاعلى (ط (۶۸) یہاں یہ سوال ہے کہ موسیٰ سے تو اللہ نے عصا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ عصا تمہارا جوابی ہتھیار ہے ، اس کو استعمال کرو : الق ما في يمينك تلقف ما صنعوا (ط (۶۹) پھر آج اہل ایمان سے خدا کی کتاب متعین صورت میں کیا کہتی ہے ۔ اس کا جواب ایک حدیث میں واضح طور پر موجود ہے ۔ اس حدیث کو البخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں : ما من نبی من الا نبياء الا وقد اوتى من الآيات ما آمن على مثله البشر وانما كان الذى أوتيته وحيا اوحاه الله الى فارجو ان اكون اكثرهم تابعا يوم القيامة - یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ پچھلے پیغمبروں کو جو فیصلہ کن طاقت معجزہ کی صورت میں دی گئی تھی وہ فیصلہ کن طاقت امت محمدی کو قرآن کی صورت میں ابدی طور پر دے دی گئی ہے۔ قرآن اس بات کی ضمانت ہے کہ جب بھی دنیا کی قومیں اپنے ساحرانہ ہتھیار ہمارے سامنے پھینکیں تو ہم قرآن کے ذریعہ ان کے سارے سحر کو بطَل ما كانوا يعملون (الاعراف (۱۱۸) کا مصداق بنا دیں۔ حتیٰ کہ خود اربابِ سحر کے دلوں کو بدل کر انہیں دائرہ اسلام میں داخل کر دیں۔ جو لوگ بظاہر اسلام کے دشمن بنے ہوئے ہیں ان کو بدل کر انہیں اسلام کا خادم اور سپاہی بنا دیں۔ قرآن کی یہ معجزاتی طاقت بار بار ماضی اور حال میں اپنا کرشمہ دکھا چکی ہے۔ وہ پہلے بھی مسلمانوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader