اسلام نظریاتی سپیریاور
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
کے حق میں عصا موسیٰ بنی ہے اور آج بھی وہ عصا موسیٰ بننے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچے تو روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا خاص کام وہاں یہ تھا کہ لوگوں کو جمع کر کے انہیں قرآن پڑھ کر سنائیں۔ سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں ان کے بارے میں بار بار یہ الفاظ آتے ہیں کہ عرض علیہم الاسلام و تتلا علیہم القرآن ۔ ان کے اسی طرز تبلیغ کی بنا پر ان کو مقری کہا جانے لگا۔ اس قرات قرآن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ کے بارہ میں تاریخ بتاتی ہے کہ : فلم تبق دار من دور الانصار الا اسلم اهلها (سیرۃ ابن ہشام ۲ / ۱۱۸) خود مصر میں قدیم زمانہ میں شرک پھیلا ہوا تھا۔ یہاں کی زبان قبطی زبان تھی ۔ مگر بعد کو ایسا ہوا کہ مصر کے باشندوں نے اپنا قدیم مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ ان کی زبان اور تہذیب تک میں تبدیلی آگئی۔ ایسا کس طاقت کے زور پر ہوا۔ مصریات کے ایک مغربی ماہر سر آر تھر کیتھ (۱۹۰۰ - ۱۸۶۶) نے اس کے بارہ میں بجاطور پر یہ الفاظ لکھے ہیں کہ : The Egyptians were conquered not by the sword, but by the Koran. اسی طرح قرآن نے ہر دور میں انسانوں کو فتح کیا ہے۔ جس طرح موسیٰ کے زمانہ میں ان کے عصا کا یہ کرشمہ سامنے آیا کہ اس نے خود ساحری کا جال بچھانے والے افراد کو متاثر کر کے انہیں موسیٰ کا ساتھی بنا دیا۔ اسی طرح ظہور اسلام کے بعد سے اب تک مسلسل یہ واقعہ پیش آ رہا ہے کہ قرآن ارباب اسلحہ کو مسخر کر کے انہیں اسلام کی صف میں شامل کر رہا ہے۔ تیرہویں صدی عیسوی میں تاتاریوں نے مسلم دنیا کو اپنے مظالم سے پامال کر ڈالا۔ مگر نصف صدی کے اندر قرآن نے ان کو فتح کر لیا۔ پروفیسر ہٹی نے اس تاریخی حقیقت کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو چکے تھے : The religion of the Muslims had conquered where their arms had failed. اسی طرح قرآن ہر دور میں دلوں کو فتح کرتا ہوا چلا آرہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہر روز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader