Urdu book · مضامین اسلام

اسلام نظریاتی سپیریاور

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

ساری دنیا میں لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ حتی کہ عالمی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسلام سب سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ پھیلنے والا مذہب ہے۔ اسلام کی یہ تمام عسکری فتوحات قرآن اور قرآنی تعلیمات کے ذریعہ ہورہی ہیں۔ آپ جس نومسلم کے بارہ میں بھی تحقیق کریں وہ یہی کہے گا کہ میں قرآن کو پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔ مجھے قرآن کی باتوں نے مَسخَر کر لیا۔ ۱۹۹۰ کے آخر میں جب امریکی فوجیں خلیج میں بڑی تعداد میں جمع ہوگئیں تو ان میں سے بہت سے فوجیوں نے صرف قرآن کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ مثال کے طور پر قاہرہ کے جریدہ ”آخر ساعت“ کے شمارہ ۲۱ رجب ۱۴۱۱ھ نے یہ واقعہ چھاپا ہے کہ حفر الباطن (سعودی عرب) میں جو امریکی فوجی مقیم تھے، ان کے سامنے مصر کے ایک پروفیسر ڈاکٹر زغلول النجار کے چند لکچر ہوئے جس میں انھوں نے امریکی فوجیوں کے سامنے قرآن کی تعلیمات سادہ انداز میں بیان کیں ۔ اس کو سن کر حفر الباطن کے تقریباً دو ہزار امریکی مسلمان ہو گئے۔ مکہ کے ہفت روزہ اخبار العالم الاسلامی کے شمارہ ۲۹ ربیع الثانی ۱۴۱۰ھ میں یہ رپورٹ چھپی تھی کہ عیسائی تنظیموں نے ساڑھے چھ ہزار تربیت یافتہ مسیحی مبلغ لیسیریا (افریقہ) میں بھیجے تاکہ وہ مسلمانوں کو عیسائی بنائیں۔ مگر وہاں پہنچ کر جب ان مسیحیوں کا ربط مسلمانوں سے ہوا اور وہ قرآن کی تعلیمات سے واقف ہوئے تو ان کی بیشتر تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔ اس طرح کے بہت سے واقعات ماضی اور حال کی تاریخ میں موجود ہیں جو اسلام کی تسخیری قوت کو بتاتے ہیں۔ یہ واقعات مسلمانوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ اپنے حریف کی ظاہری طاقت سے نہ گھبراؤ بلکہ اپنے خدائی ہتھیار کو استعمال کرو۔ اس کے بعد تم اس کا یہ کرشمہ دیکھو گے کہ : فإذا الذي بينك وبينه عداوة كأنه ولي حميم (حم السجدہ ۳۴) قرآن کی اس تسخیری طاقت کا سبب کیا ہے ۔ وہ کیوں لوگوں کو جیت رہا ہے۔ اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوتا ہے ۔ رو جر گارودی (پیدائش ۱۹۱۳) ایک ملحد اور فرانس کی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما تھے۔ انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور اس سے متاثر ہو کر ۱۹۸۲ میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے اسلام پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ ان کی اسلامی خدمات کی بنا پر ان کو جائزۂ الملک الفیصل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page