Urdu book · مضامین اسلام

اسلام نظریاتی سپیریاور

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

دیا گیا ہے ۔ انعام لینے کے لیے جب وہ ریاض گئے تو وہاں انھوں نے ایک مفصل تقریر کی۔ یہ تقریر فرانسیسی زبان میں تھی۔ اس کا عربی ترجمہ ریاض کے روز نامہ الریاض میں چھپا تھا جس کا عنوان تھا : کیف اسلمت ۔ اس تقریر میں گارودی نے بتایا کہ میں نے اسلام اس لیے قبول کیا تاکہ میں اپنی زندگی کو معنویت دے سکوں ( حتی اعطی لحیاتی معنی) ان کے پاس بظاہر سب کچھ تھا مگر اسلام کے بغیر انھیں اپنی زندگی بے معنی معلوم ہوتی تھی۔ اسلام کے بعد انھوں نے محسوس کیا کہ اب میری زندگی با معنی ہوگئی ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں دین توحید کی طلب پیدائشی طور پر موجود ہے۔ اس طلب سے کوئی بھی شخص خالی نہیں جیسا کہ قرآن میں کہا گیا ہے : فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم (الروم ۳۰) آدمی اپنی اس طلب کے تحت مختلف مذہبی کتابوں کو پڑھتا ہے۔ مگر قرآن کے سوا تمام مذہبوں کی کتابیں محرف ہو چکی ہیں۔ اس لیے ان کتابوں میں اور فطرت انسانی میں عدم مطابقت پیدا ہو گئی ہے۔ انسان ان محرف کتابوں میں طلب کا جواب نہیں پاتا۔ اور اس بنا پر انھیں رد کر دیتا ہے۔ مگر قرآن پوری طرح تحریفات سے پاک ہے۔ وہ مکمل طور پر دین فطرت ہے۔ چنانچہ جب آدمی قرآن کو پڑھتا ہے تو بے آمیز ہونے کی بنا پر قرآن اس کے عین دل کی آواز بن جاتا ہے۔ آدمی قرآن کو اپنا مطلوب سمجھ کر اسے اختیار کر لیتا ہے۔ ایک جاپانی مستشرق کو جاپانی انسائیکلوپیڈیا کے لیے اسلام پر مقالہ لکھنے کا کام دیا گیا۔ اس نے اپنے مقالہ کے لیے قرآن کا اور پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس طرح کے واقعات بار بار اسی لیے پیش آتے ہیں کہ اسلام دین فطرت ہونے کی بنا پر اور تحریف سے پاک ہونے کی بنا پر اپنے اندر ہر انسان کے لیے مقناطیسی کشش رکھتا ہے۔ اسلام کے بغیر اس کو اپنی زندگی خالی از معنی نظر آتی ہے اور اسلام کے بعد وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی زندگی نے اپنی مطلوب معنویت کو پالیا ہے۔ اسلام کا دین فطرت ہونا اس کے اندر غیر معمولی تتیزی صفت پیدا کر دیتا ہے۔ مزید یہ کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page