اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
تقابلی مثال ۔ ۱ قدیم عرب کے بتوں میں سے ایک بت ذوالخلصہ تھا۔ وہ مکہ اور یمن کے درمیان تبالہ کے مقام پر نصب تھا۔ کہا جاتا ہے کہ امرؤالقیس کے باپ کو بنو اسد کے کچھ لوگوں نے قتل کر دیا۔ امرؤالقیس نے اپنے باپ کا بدلہ لینے کے لیے بنواسد پر حملہ کرنا چاہا۔ وہ ذوالخلصہ کے یہاں آیا اور پانسر کے مقر طریقہ پر تیروں کے ذریعہ بت کا فیصلہ معلوم کرنا چاہا۔ بت کا جواب ”نہیں“ کی صورت میں آیا۔ اس نے دوسری اور تیسری بار پانسر نکالا۔ مگر ہر بار نہیں کا جواب آیا۔ اس کے بعد امرؤالقیس نے ایک لکڑی کھینچ کر بت کو مارا اور یہ شعر کہا : لَوْ كُنْتَ يَاذَا الْخَلْصَ مَوْتُوْراً مِثْلِي وَكَانَ شَيْخُكَ الْمَقْبُوْلَا لَمْ تَمْنَعَنْ قَتْلَ الْعُدَاةِ زُوْراً (سيرۃ ابن هشام ۹۱/۱، البدایہ والنہایہ ۲۱۹/۲) ترجمہ : اے ذوالخلصہ ، اگر تو میری طرح ہوتا کہ تیرا بزرگ خاندان دفن کر دیا گیا ہوتا اور تو اس کے خون کا بدلہ نہ لے سکا ہوتا تو دشمنوں کو قتل کرنے سے غلط طور پر تو منع نہ کرتا۔ ذوالخلصہ انسانوں کا تراشا ہوا بت تھا۔ تیروں کے ذریعہ اس کا فیصلہ معلوم کرنے کا طریقہ بھی خود انسانوں ہی نے وضع کیا تھا۔ اس بنا پر اس فیصلہ میں تقدس اور حتمیت کا تصور نہیں آسکتا تھا۔ چنانچہ اس کا مفروضہ فیصلہ جب امرؤالقیس کو اپنی مرضی کے خلاف معلوم ہوا تو وہ بگڑ گیا۔ اس نے فیصلہ کے خلاف بنواسد پر حملہ کر دیا اور اس طرح اپنے انتقام کی آگ بجھائی۔ اب اس کا تقابل، ایک اسلامی واقعے سے کیجئے۔ یہ واقعہ اسلام کے دورِ اول کی تاریخ سے تعلق رکھتا ہے : عَنْ أَبِي مَسْعُوْدِ الْبَدْرِي رضى الله عنه ، قَالَ كُنْتُ اضْرِبُ غُلاماً لِي بِالسَّوْطِ فَسَمِعْتُ صَوْتاً مِنْ خَلْفِي - اعلم ابا مسعود - فَلَمْ أَفْهَمِ الصَّوْتَ مِنَ الغضب - فلما دَنَا مِنِّى إِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ، فَإِذَا هُوَ يَقُولُ : إِعْلَمْ أَبَا مَسْعُوْدِ أَنَّ اللَّهَ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا الغلام - فقلت لا اضْرِبُ مملوكاً بعده ابداً (وفي رواية) فسقط السوط مِنْ يَدِي مِنْ هَيْبَتِهِ (وفي رواية) فقلت يارسولَ اللَّهِ هُوحرٌّ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader