اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
وجہ اللہ - فقال اما إنه لولم تفعل لفحتك النار اولمسستك النار (رواه مسلم بهذه الروايات) ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا ایک غلام تھا، اس کو میں کوڑے سے مار رہا تھا۔ پھر میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی کہ اے ابو مسعود جان لو۔ مگر غصہ کی وجہ سے میں اس آواز کو سمجھ نہ سکا۔ پھر جب پکارنے والا میرے قریب آگیا تو معلوم ہوا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ فرما رہے تھے کہ اے ابو مسعود، جان لو کہ اللہ تمہارے اوپر اس سے زیادہ قادر ہے جتنا تم اس غلام کے اوپر قادر ہو۔ میں نے کہا کہ اب میں کبھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔ ہیبت کی وجہ سے کوڑا میرے ہاتھ سے گر پڑا۔ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، یہ غلام اللہ کی خاطر آزاد ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرتے تو یقیناً آگ تم کو پکڑ لیتی۔ اس واقعہ میں برعکس طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ حکم آتے ہی آدمی جھک جاتا ہے اور آخری حد تک اس کو قبول کر لیتا ہے، خواہ وہ اس کے نفس کے کتنا ہی خلاف ہو۔ اس فرق کا راز عقیدہ ہے۔ اس دوسرے حکم کے ساتھ عقیدہ کا تائیدی عنصر موجود تھا، یہی وجہ ہے کہ آدمی اس کے خلاف سوچ نہ سکا۔ اس نے فوراً اس کو قبول کر لیا۔ کیوں کہ اس کو اندیشہ تھا کہ اگر میں نے اس کو نظر انداز کیا تو ایک ایسی آگ مجھ کو پکڑ لے گی جس سے بچنا میرے لیے ممکن نہیں۔ تقابلی مثال - ۲ اب اس سلسلہ کی ایک اور تقابلی مثال لیجئے ۔ شراب نوشی متفقہ طور پر ایک مضر عادت ہے۔ انسان کے جسم اور دماغ دونوں پر اس کے نہایت برے اثرات پڑتے ہیں جس کے نتیجہ میں براہ راست طور پر فرد اور بالواسطہ طور پر پوری سوسائटी کو اس کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے (1/440) چنانچہ انیسویں صدی میں یورپ اور امریکہ میں شراب نوشی کے خلاف بہت سی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں جن کو عام طور پر ترکِ شراب کی تحریکیں (temperance movements) کہا جاتا ہے (877/IX) ان تحریکوں کے زیر اثر بیشتر ترقی یافتہ ملکوں میں جزوی شراب بندی کے قوانین بنائے گئے۔ مگر کہیں بھی ان قوانین کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ دو مغربی ملک، ایسے ہیں جہاں قومی سطح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader