Urdu book · مضامین اسلام

اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

پر مکمل شراب بندی کا قانون نافذ کیا گیا ۔ مگر ہر قسم کی اعلی کوششوں کے باوجود وہ بھی اپنے مقصد میں ناکام رہے ۔ ان میں سے ایک فیلینڈ ہے۔ یہاں قومی شراب بندی ایکٹ 1919 میں بنایا گیا۔ اس کو جاری کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ مگر مکمل ناکامی ہوئی ۔ آخر کار 1931 میں اس کو منسوخ کر دینا پڑا (16/335) اسی طرح امریکہ میں 1919 میں نیشنل پردہیبن ایکٹ (National Prohibition Act) منظور کیا گیا ۔ اس کے مطابق ، ناگزیر طبی ضرورتوں (medicinal purposes) کے سوا ہر دوسرے مقصد کے لیے شراب کو قانوناً ممنوع قرار دے دیا گیا۔ مگر اس قانون کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ امریکہ میں پہلے سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر خفیہ شراب نوشی ہونے لگی اور شراب کا خفیہ کاروبار سارے ملک میں طوفان کی طرح پھیل گیا۔ اس کے نتیجہ میں جرائم اور حادثات بہت بڑھ گئے۔ جب شراب کوروکنے کے لیے حکومت کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو 1933 میں سابقہ قانون کو منسوخ کرکے دوبارہ شراب کی عام اجازت دے دی گئی (VIII/233) فینلینڈ اور امریکہ میں شراب بندی کا جو قانون بنایا گیا وہ ایک وضعی قانون تھا۔ اس قانون کو بنانے والے انسان تھے ، اس لیے ناممکن تھا کہ دوسرے انسان اس کو مقدس سمجھیں اور اس کی تعمیل کو اپنے لیے ضروری قرار دیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ وہاں قانون تھا مگر وہاں عقیدہ نہ تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دورِ جدید کے تمام طاقت در ذرائع کو استعمال کرنے کے باوجود وہ سراسر ناکام ہو گیا۔ اب اس کے مقابل، اسی نوعیت کی ایک اسلامی مثال لیجیے ۔ اسلام جب عرب میں آیا، اس وقت عرب کے لوگ کثرت سے شراب کے عادی تھے۔ ان کی زبان میں شراب کے تقریباً ڈہائی سو نام تھے۔ اپنے اشعار میں اور اپنی مجلسوں میں وہ شراب کے زبردست تذکرے کرتے تھے۔ ان کے درمیان اسلام کی تبلیغ کی گئی۔ یہاں تک کہ انھوں نے اسلام کے عقیدہ کو قبول کر لیا۔ اس کے بعد قرآن میں حکم آیا کہ اے ایمان والو، بے شک شراب اور جُوا اور تھان اور پانسے سب گندے ہیں اور شیطان کے کام ہیں۔ پس تم ان سے بچو، تا کہ تم فلاح پاؤ ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جُوء کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تم کو اللہ کی یاد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page