Urdu book · مضامین اسلام

اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

اور نماز سے روک دے ۔ تو کیا تم ان سے باز آؤ گے ( المائدہ ۹۰- ۹۱) یہ حکم آتے ہی اہل ایمان کہہ اٹھے : انتھینا انتھینا ( ہم باز آئے ، ہم باز آئے) لوگوں نے اس حکم کے بعد یک لخت شراب چھوڑ دی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ : و امر النبی صلی اللہ علیہ وسلم منادیہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ ينادی فی سکک المدينة - الان الخمر وہ مدینہ کے محلوں میں پکار کر کہہ دے اے لوگو! قد حُرمت - فكسرت الدنان وأريقت شراب حرام کر دی گئی۔ اس کے بعد شراب کے مٹکے الخمر حتى جرت فی سکک المدينة توڑ دیے گئے اور شراب بہادی گئی۔ یہاں تک کہ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ۲۹۲/۶) وہ مدینہ کے راستوں میں بہہ پڑی۔ اسلامی تاریخ کے اس واقعہ کا اعتراف امریکی پروفیسر مارک کیلیر (Mark Keller) نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ شراب پر مذہبی پابندی کے معاملہ میں ایک بالکل مختلف طریقہ اسلام میں ساتویں صدی میں اختیار کیا گیا۔ قرآن نے سادہ طور پر بس شراب کی مذمت کی اور اس کا نتیجہ عرب اور دوسرے مقامات پر محمد کے پیروؤں میں مؤثر اجتناب کی صورت میں ظاہر ہوا : Quite a different kind of religious control was adopted later (in the 7th century) in Islam: the Qur'an simply condemned the wine, and the result was an effective prohibition wherever the devout followers of Muhammad in Arabia and other lands prevailed. (1/441-42) عقیدہ : ایک تائیدی عنصر مذکورہ تقابلی واقعات میں اسلام کا تجر بہ مختلف کیوں ہے ۔ اس کی واحد وجہ وہی چیز ہے جس کو عقیدہ کہا جاتا ہے۔ مغربی ملکوں کے قانون کے برعکس، اسلام کے حکم کے ساتھ عقیدہ کا تائیدی عنصر موجود تھا۔ اس عنصر نے اسلام کے حکم کو خدائی حکم کی حیثیت دے دی۔ اور جب کسی حکم کے بارہ میں آدمی کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ وہ خدا سے برتر کا حکم ہے تو اس کے بعد اس کے اندر سے فرار کی سوچ ختم ہو جاتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ مجھے ہر حال میں اس حکم کی تعمیل کرنا ہے۔ اس کے سوا میرے لیے کوئی اور چارہ نہیں۔ اوپر ہم نے پروفیسر مارک کیپ کا قول نقل کیا ہے۔ وہ مطالعہ خمریات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page