Urdu book · مضامین اسلام

اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

عین اسی کے ساتھ وہ لوگوں کی زندگیوں میں بالفعل قائم بھی ہو جاتا ہے۔ اسلام کی اس استثنائی خصوصیت کا سبب وہی چیز ہے جس کو عقیدہ کہا جاتا ہے۔ اسلام کا اعتقادی نظام اس کے قانونی نظام کے حق میں ایک خصوصی تائیدی عنصر (supporting element) کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسانی معاشرہ میں کسی قانونی حکم کو عملاً جاری کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ کے اندر اس کے مطابق ذہنی تشکیل (frame of mind) بھی موجود ہو۔ عقیدہ یہی اہم کام کرتا ہے۔ عقیدہ قانون کے حق میں ضروری ذہنی تشکیل فراہم کرتا ہے۔ عقیدہ آدمی کے اندر مطلوب سوچ پیدا کرتا ہے۔ وہ قانون کی پیروی کو خود آدمی کی اپنی ضرورت بنا دیتا ہے نہ کہ محض کسی خارجی ادارہ کی ضرورت۔ اس قسم کا برحق اور کامل عقیدہ صرف اسلام میں ہے جو کہ ایک محفوظ دین ہے۔ اس لیے اسلام ہی استثنائی طور پر یہ خصوصیت رکھتا ہے کہ جب وہ اپنے صاحب عقیدہ گروہ کے اندر کوئی قانون نافذ کرے تو وہ کسی رکاوٹ کے بغیر عملاً نافذ بھی ہو جائے ۔ کسی انسانی گروہ میں عقیدہ کا پیدا ہونا اس کے اندر ایک فکری تبدیلی کا پیدا ہونا ہے۔ اس طرح عقیدہ اسلامی شریعت کے لیے ایک موافق شعوری انقلاب کے ہم معنی ہے۔ اسلام کے دور اول میں جو مسلم معاشرہ بنا وہ اسی طرح شعوری انقلاب کا حامل ایک معاشرہ تھا۔ اس اعتبار سے وہ ایک مثالی اعتقادی معاشرہ تھا۔ اس لیے اس معاشرہ کے درمیان شرعی احکام کی تطبیق بھی مثالی انداز میں ہوئی۔ اور اسی لیے اس کی حیثیت دائمی قدوہ کی قرار پائی۔ بعد کے دور کے مسلم معاشرہ میں جس درجہ کی اعتقادی حالت پائی جائے گی ، اس کے درمیان اسی درجہ کی شرعی تطبیق بھی وقوع میں آئے گی۔ قانون طاقت کے زور پر نافذ کیا جاتا ہے۔ مگر عقیدہ کو طاقت کے ذریعہ پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ عقیدہ کو صرف دل و دماغ کی راہ سے انسان کے اندر داخل کیا جا سکتا ہے۔ عقیدہ ماننے کی چیز ہے، وہ منوانے یا نافذ کرنے کی چیز نہیں۔ انسانوں کے کسی مجموعہ کے اندر عقیدہ پیدا کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ ان کے اندر فکری انقلاب لایا جائے۔ دعوتی جدوجہد کے ذریعہ ایک ایک فرد کے ذہن میں وہ سوچ پیدا کی جائے جو عقیدہ کے مطابق آدمی کے اندر ہونی چاہیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page