اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
حصہ دوم انسان کا عمل اس کی سوچ اور اس کی ذہنی افتاد کے تابع ہوتا ہے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان کی گئی ہے : قل کل يعمل علی شاکلته (الاسرار : ۸۴) یعنی ہر آدمی اپنے شاکلہ (ذہنی سانچہ) کے مطابق عمل کرتا ہے ۔ فرد کا معاملہ ہو یا سماج کا ، ہر ایک کے لیے وہی عملی صورت قابلِ قبول ہوتی ہے جو اس کے ذہنی شاکلہ کے مطابق ہو۔ اس لیے عمل انسانی کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے شاکلہ انسانی کو بدلا جائے ۔ یہ ایک فطری حقیقت ہے ۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے تطبیقِ شریعت کے لیے عقیدہ کو بنیادی اہمیت دے دی ہے ۔ شریعت کی مثال اگر درخت سے دی جائے تو عقیدہ کی حیثیت بیج کی ہوگی ۔ عقیدہ ، شریعت کے حق میں نظریاتی جواز فراہم کرتا ہے ۔ عقیدہ جب تک فکر اور نظریاتی ماحول نہ بنائے ، شریعت کے قانونی احکام کو کسی معاشرہ میں عملاً قائم نہیں کیا جا سکتا۔ عقیدہ سے مراد معروف معنوں میں کوئی جامد عقیدہ نہیں بلکہ اس سے مراد وہ زندہ چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں فکری انقلاب کہا جاتا ہے ۔ شریعت کا حقیقی نفاذ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ اس کے حق میں فکری و ذہنی انقلاب برپا کیا جا چکا ہو ۔ پہلے انسان کے ذہن میں تبدیلی آتی ہے ۔ اس کے بعد ہی اس کے عمل میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے ۔ اسی طرح پہلے انسانی ذہن پر عقیدہ کا فکری غلبہ قائم ہوتا ہے ، اس کے بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ شریعت کے قانونی نظام کو انسانی معاشرہ میں نافذ کیا جائے ۔ قرآن جب اترنا شروع ہوا تو اس وقت عرب میں خالص شرعی اعتبار سے بہت سی بڑی بڑی خرابیاں پائی جاتی تھیں۔ مگر قرآن میں ان کے بارہ میں کوئی حکم نہیں دیا گیا ۔ ابتدائی دور کی تمام آیتیں اور سورتیں صرف ذہن کی تعمیر و تشکیل کے مضامین سے تعلق رکھتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمرِ نبوت کے نصف سے زیادہ حصہ تک قرآن میں صرف وہ آیتیں اترتی رہیں جو انسان کے اندر تفکر و تدبر کی صلاحیتوں کو جگانے والی اور اس کے ذہن کو بدلنے والی ہوں۔ بقیہ تمام احکام کے نزول کو آئندہ کے لیے موخر کر دیا گیا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ عمرِ نبوت کے نصف اول میں عقیدہ والی باتوں پر زور دیا گیا ، اور عمرِ نبوت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader