اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
کے نصف ثانی میں شریعت کے احکام نازل کیے گئے۔ گویا پہلے انسانی شاکلہ کی تصحیح کی گئی۔ اس کے بعد یہ حکم دیا گیا کہ فلاں فلاں قانون کو لوگوں کے اوپر جاری کرو۔ مزید یہ کہ تبدیلی شاکلہ کا یہ عمل صرف مقامی طور پر نہیں بلکہ وہ عمومی اور عالمی سطح پر بھی مطلوب تھا، کیوں کہ جب تک عمومی سطح پر شاکلہ انسانی میں تبدیلی نہ آئے، کسی مقامی دائرہ میں احکام شریعت کا نفاذ مؤثر طور پر نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے قرآن میں حکم دیا گیا کہ : وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله (الانفال (۳۹) مفسرین نے یہاں فتنہ سے شرک مراد لیا ہے۔ یعنی ان سے لڑو یہاں تک کہ شرک باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام دنیا میں مشرکانہ شاکلہ (مشرکانہ طرز فکر) چھایا ہوا تھا۔ ان حالات میں مذکورہ حکم کا مطلب یہ تھا کہ ہر قسم کی کوشش کر کے لوگوں کے درمیان سے شاکلہ شرک کا خاتمہ کر دو، اور اس کی جگہ شاکلہ توحید کو رائج کرو، تاکہ انھیں جس شریعت پر چلانا مطلوب ہے اس کی راہ ہموار ہو سکے ۔ دور اول کی اسلامی تاریخ شریعت کی تطبیق کا مثالی نمونہ ہے۔ مثلاً قدیم عرب سماج میں زنا کا ارتکاب کثرت سے کیا جاتا تھا۔ مگر جب اسلام کے قانون زنا کو نافذ کیا گیا تو اس کے بعد پورے معاشرہ سے زنا کا خاتمہ ہو گیا۔ عدالت کے سامنے صرف چند مستثنی کیس آئے جو نسبتاً بالکل ناقابل شمار ہیں۔ اسی طرح قدیم عربوں میں شراب کا عام رواج تھا۔ مگر جب شراب کی ممانعت کا قانون رائج کیا گیا تو یک لخت لوگوں نے شراب پینا ترک کر دیا۔ دور اول میں شریعت کی یہ کامیاب تنفیذ کیسے ممکن ہوئی ۔ جواب یہ ہے کہ وہ اس وقت ممکن ہوئی جب کہ عقیدہ کی سطح پر لمبی مدت تک عمل کر کے اس کے موافق ماحول بنا لیا گیا۔ اس سلسلہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت نہایت اہم ہے جو اس معاملے کو سمجھنے کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ قرآن میں پہلے وہ سورتیں اتریں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے تو حلال و حرام کے احکام اترے۔ اور اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ شراب نہ پیو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم شراب کبھی نہ چھوڑیں گے۔ اور اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader