اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
زنانہ کرو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنانہ چھوڑیں گے : إنما نزل أول ما منزل منہ سورۃ من المفصل فيها ذكر الجنة والنار۔ حتى إذا ثاب الناس الى الاسلام نزل الحلال والحرام۔ ولو نزل اول شيء لا تشربوا الخمر لقالوا لا ندع الخمر ابداً۔ و لو نزل لا تزنوا لقالوا لا ندع الزنا ابداً (صحیح البجاری ، کتاب فضائل القرآن ، باب تالیف القرآن) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت واضح طور پر تطبیق شریعت کے لیے عقیدہ کی اہمیت کو بتاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تطبیق شریعت کا صحیح طریقہ تدرّج کا طریقہ ہے۔ یعنی پہلے لوگوں کے اندر فکری تبدیلی پیدا کی جائے۔ اس کے بعد ان کے اوپر احکام کی تنفیذ عمل میں لائی جائے۔ اسی تدریجی طریقہ کو اختیار کر کے دورِ اول میں کامیابی حاصل کی گئی، اور اسی تدریجی طریقہ کی پیروی کر کے بعد کے زمانوں میں بھی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے ۔ موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف مسلم ملکوں میں تطبیق شریعت کی کوششیں کی گئیں، مگر سب کی سب اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کوششوں میں مذکورہ تدریجی اصول کو اختیار نہیں کیا گیا۔ ان مثالوں میں فکری انقلاب لائے بغیر شرعی احکام کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اور ایسی کوشش کا انجام ہمیشہ وہی ہو گا جس کا ذکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ جدید تہذیب نے پوری دنیا کے سوچنے کے انداز کو بدل دیا ہے ۔ نہ صرف عام انسان بلکہ خود مسلمان بھی شعوری یا بغیر شعوری طور پر اس سے شدید طور پر متاثر ہیں۔ ایسی حالت میں شریعت کے نفاذ کا کام وقت کی فکری فضا کو بدلنے سے شروع ہو گا، نہ کہ قانونی احکام کو نافذ کرنے سے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کچھ مسلم ملکوں کا موجود ہونا ، ہی تطبیق شریعت کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اس کے لیے انسانی شاکلہ میں ضروری تبدیلی لانا بھی ناگزیر طور پر مطلوب ہے۔ اگر عالمی انسانی شاکلہ ہمارے موافق نہ ہو تو کسی مسلم ملک میں تطبیق شریعت کا جزیرہ تعمیر کرنا ممکن نہ ہوگا۔ پچھلے ایک سو سال کے درمیان مختلف مسلم ملکوں میں نفاذ شریعت کی کوششوں کے ناکام ہونے کا اصل سبب یہی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader