اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسا کہ عرض کیا گیا ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے تمام دنیا میں مشرکانہ شاکلہ کا غلبہ تھا۔ یہی وہ صورت حال تھی جس کو ابراہیم علیہ السلام نے ان الفاظ میں ظاہر فرمایا تھا کہ : رب انهن اضللن كثيرا من الناس (ابراهیم ۳۶) یعنی ان اصنام نے بیشتر لوگوں کو بہکا کر مشرکانہ عقیدہ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور وہ توحید کی فکر سے ہٹ گئے ہیں۔ ان حالات میں رسول اور اصحاب رسول کو حکم دیا گیا کہ مشرکانہ تہذیب کے خلاف جہاد کریں اور اس وقت تک اپنا جہاد جاری رکھیں جب کہ مشرکانہ طرز فکر کا غلبہ دنیا سے ختم ہو جائے۔ انھوں نے اپنی غیر معمولی جدوجہد اور بے پناہ قربانیوں کے ذریعہ مشرکانہ ذہن کو توڑ دیا۔ جو لوگ غیر اللہ کی بنیاد پر سوچتے تھے وہ اللہ کی بنیاد پر سوچنے لگے۔ یہ مشرکانہ شاکلہ پہلے عرب میں توڑ گیا ۔ اس کے بعد فکری انقلاب کا یہ سیلاب آگے بڑھا اور ایشیا اور افریقہ سے گزرتا ہوا وہ یورپ کے اندر داخل ہو گیا۔ بعثت نبوی کے سو سال کے اندر یہ واقعہ ہوا کہ عالمی سطح پر مشرکانہ شاکلہ مغلوب ہو گیا اور موحدانہ شاکلہ زمین کے اوپر چھا گیا ۔ انسانی نسل کی ایک تعداد پوری طرح اس سے تائب ہو کر دین توحید کے دائرہ میں داخل ہو گئی ۔ بقیہ تعداد اگر چہ اسلام میں باقاعدہ داخل نہیں ہوئی ، تاہم اس کے درمیان بھی شرک کی حیثیت غالب فکر کی نہیں رہی ۔ ہنری پیرین (Henri Pirenne) نے اس انقلابی واقعہ کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے : Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. اسلام کے ظہور کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک یہ شاکلہ توحید دنیا میں قائم رہا۔ اس کے بعد جدید سائنسی اور صنعتی انقلاب آیا۔ اس نے پوری صورت حال کو دوبارہ بدل دیا۔ اب اگر چہ سابق مشرکانہ شاکلہ تو واپس نہیں آیا۔ مگر جدید مغربی تہذیب کے اثر سے یہ ہوا کہ موحدانہ شاکلہ یا خدا پرستانہ طرز فکر مغلوب ہو گیا ، اور اس کی جگہ ایک اور شاکلہ نے غالب شاکلہ کا درجہ حاصل کر لیا۔ اس نئے شاکلہ کو ملحدانہ شاکلہ کہا جا سکتا ہے۔ یہی موجودہ زمانہ کا اصل مسئلہ ہے۔ اسلام کے ظہور کے وقت اگر مشرکانہ شاکلہ کو مغلوب کرنے کا مسئلہ تھا تو اب داعیان اسلام کے لیے پہلا کام یہ بن گیا ہے کہ وہ ملحدانہ شاکلہ کو توڑیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader