اثر العقیدہ فی تطبیق الشریعہ
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
اس ابتدائی شرط کو پورا کیے بغیر تطبیق شریعت کے مقصد کا حصول ممکن نہیں۔ اسلام ایک محفوظ دین ہے۔ اللہ نے اس کی ابدی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔ اس لیے تاریخ میں کوئی بھی ایسی صورت حال پیش نہیں آسکتی جو اسلام کے مواقع کو مستقل طور پر مسدود کر دے۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی نصرت سے ایسے امکانات پیدا کیے جن کو استعمال کرکے اہل اسلام دوبارہ تاریخ کے رخ کو موڑ دیں ، وہ بے خدا شاکلہ کو مغلوب کرکے دوبارہ خدا پرستانہ شاکلہ کو دنیا میں فکری اعتبار سے غالب کر دیں۔ اور اس طرح از سر نو تطبیق شریعت کی راہ ہموار کرسکیں ۔ دور جدید میں ہمارے لیے جو موافق امکانات پیدا ہوئے ہیں وہ بے شمار ہیں ۔ مثلاً جدید وسائل اعلام جنھوں نے تاریخ میں پہلی بار اس کو ممکن بنایا ہے کہ ہر بیت مدر اور ہر بیت دبہ تک اسلام کا پیغام پہنچا دیا جائے ۔ اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب کا خالص علمی اور تاریخی معیار پر غیر معتبر ثابت ہو جانا ۔ جدید سائنسی حقائق کا ظہور جو تعلیمات اسلام کی معجزاتی تصدیق کرنے والے ہیں ۔ انسانی ساخت کے نظریہ ہائے حیات کی مکمل ناکامی ، وغیرہ۔ یہاں، ہم صرف آخری نوعیت کی دو مثالیں نقل کرتے ہیں۔ نیوٹن کے زمانہ سے خدا پرستانہ شاکلہ بدلنا شروع ہوا۔ تقریباً تین سو سال تک انسان اس غلط فہمی میں مبتلا رہا کہ وہ مادی سائنس کو مذہب کا بدل بنا سکتا ہے ۔ اس دور میں بہت بڑے پیمانہ پر یہ کوشش کی گئی کہ انسان اور کائنات کی تشریح مادہ کی اصطلاحات میں کی جاسکے۔ مگر یہ کوشش مکمل طور پر ناکام ہو گئی ۔ بہترین دماغوں کی طویل محنت کے بعد آخر کار معلوم ہوا کہ کائنات مادی تشریح کو قبول کرنے سے انکار کر رہی ہے ۔ اس صورت حال کا اعتراف مختلف سائنس دانوں نے مختلف انداز سے کیا ہے نظریاتی طبیعیات کے مشہور عالم ارون شر و ڈنگر ( ۱۹۶۱ء - ۱۸۸۰ء) نے سائنس کی اس ناکامی کا اقرار ان الفاظ میں کیا کہ فطرت کے بارہ میں سب سے زیادہ ناقابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے : The most incomprehensible thing about nature is that it is comprehensible.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader