اسلام میں عدل اجتماعی
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
کی عدالت میں خلیفہ اور عام شہری کے درمیان اس قدر برابری کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ اس نے خود سے اقرار کر لیا کہ علی بن ابی طالب سچے ہیں اور یہ زرّہ واقعتاً انھیں کی ہے۔ یہ میری نہیں (عظمت صحابہ ۲۲ - ۲۴) ۴- خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ مصر کے حاکم عمرو بن العاص کے لڑکے محمد بن عمرو ایک قبطی پر غصہ ہو گئے اور اس کو کوڑے سے مارا۔ یہ قبطی مصر سے چل کر مدینہ آیا اور عمر فاروق سے فریاد کی۔ عمر فاروق نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ محمد بن عمرو نے اس کو ناحق مارا ہے۔ انھوں نے فوراً اپنا آدمی بھیج کر حاکم مصر اور ان کے لڑکے کو بلایا۔ جب وہ آگے تو قبطی سے کہا کہ ان کو مارو۔ قبطی نے حاکم مصر کی موجودگی میں ان کے لڑکے کو مارنا شروع کیا اور ان کو لہو لہان کر دیا۔ جب وہ پوری طرح مار چکا تو عمر فاروق نے عمرو بن العاص اور محمد بن عمرو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، حالانکہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد جنا تھا (عظمت صحابہ ۲۰ - ۲۱) ۵- فلسطین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں فتح ہوا۔ مفتوحہ قوم سے معاہدہ طے کرنے کے یہ مقرر ہوا کہ خلیفہ خود فلسطین آئیں ۔ عمر فاروق مدینہ سے روانہ ہوئے۔ وہ اس طرح چلے کہ ان کے جسم پر معمولی کپڑا تھا اور ایک خادم اور ایک اونٹ۔ انھوں نے اپنے خادم سے کہا کہ اگر میں تنہا اونٹ پر بیٹھوں اور تم پیدل چلو تو میں تمھارے اوپر ظلم کروں گا۔ اگر تم اونٹ پر بیٹھو اور میں پیدل چلوں تو تم میرے اوپر ظلم کرو گے۔ اور اگر ہم دونوں اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ جائیں تو ہم اونٹ کے اوپر ظلم کریں گے۔ بہتر ہے کہ ہم تینوں باری مقرر کر لیں ۔ چنانچہ تین باری مقرر ہوئی ایک بار عمر فاروق بیٹھتے اور خادم پیدل چلتا۔ پھر خادم بیٹھتا اور عمر فاروق پیدل چلتے۔ اس کے بعد اونٹ خالی رہتا اور دونوں پیدل چلتے۔ خلیفہ دوم اس طرح سفر کرتے ہوئے مدینہ سے فلسطین پہنچے۔ (تعمیر کی طرف ۵۶ - ۵۰) اسلام نے اس طرح اپنے فکری انقلاب اور اپنے عملی نمونوں کے ذریعہ ایک ایسی تاریخ پیدا کی جس نے زمین کے تقریباً تمام آباد حصہ کو متاثر کیا۔ یہ انقلاب اتنا طاقت ور تھا کہ اس کے اثرات ہزار سال بعد تک بھی ختم نہ ہو سکے۔ اسلامی انقلاب کی ہمہ گیری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ اور تابعین کا زمانہ اسلام میں زرّیں زمانہ ہے۔ اس زمانہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader