اسلام میں عدل اجتماعی
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اسلام کی اقدار پوری طرح سماج کے اوپر چھائی رہیں۔ بعد کی نسلوں میں جب اس انقلاب کے اثرات کم ہوئے اس وقت بھی ماحول میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آسکی۔ حتی کہ مسلم بادشاہوں کو بھی اس سے سرتابی کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ اسلام کے ذریعہ توحید کا جو انقلاب آیا اس نے خدا کا رب ہونا اور انسان کا صرف عبد ہونا اتنے طاقت ور انداز میں لوگوں کے ذہنوں پر راسخ کر دیا کہ کسی کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ دولت یا اقتدار پا کر اپنے آپ کو دوسروں سے اعلیٰ وارفع سمجھنے لگے، جیسا کہ پچھلی تاریخ میں ہوا کرتا تھا۔ نصر بن احمد بن اسد بن سامان (م ۲۷۹ھ) دولت السامانیہ (Samanids) کا بانی ہے۔ یہ حکومت ایران یا ماورا النہر (Transoxania) میں 819ء سے 999ء تک قائم رہی۔ سلطان نصر نے جب نیشاپور کو فتح کرکے اس کو اپنی سلطنت میں شامل کیا تو وہاں اس نے ایک شاندار در بار منعقد کیا۔ تخت نشینی کی رسم کے افتتاح کے لیے ایک حافظ سے تلاوت کرائی گئی۔ وہ تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے : يوم هم بارزون لا يخفى على الله منهم شيئ. لمن الملك اليوم - لله الواحد القهار (المومن (16) حافظ قرآن نے جب یہ آیت پڑھی تو اس کا سن کر سلطان نصر کے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ شدت احساس کے تحت وہ تخت سے نیچے آگیا اس نے تاج کو اپنے سر سے اتارا اور زمین پر سجدہ میں گر گیا۔ اس نے کہا : اے میرے رب ، بلا شبہ بادشاہی تیری ہے نہ کہ میری۔ قدیم زمانہ شاہی مطلق العنانی کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ کے غالب فکر میں بادشاہ کی برتری اور بقیہ انسانوں کی کمتری ایک مسلمہ کا درجہ اختیار کر گئی تھی۔ اس کا اثر عملی واقعات پر پڑتا تھا۔ اسلامی انقلاب نے شخصی بڑائی کے دور کو ختم کیا۔ اس نے انسانی برابری کے تصور کو ایک مسلمہ کی حیثیت سے تاریخ میں رواج دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی اعمال اس فکر کے زیر اثر انجام پانے لگے۔ پوری اسلامی تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں موضوع کی نسبت سے میں دورِ آخر کے ایک واقعہ کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ مغل بادشاہ جہانگیر کا واقعہ ہے۔ اس واقعہ کو مورخ اسلام مولانا شبلی نعمانی نے "عدل جہانگیری" کے عنوان سے نظم کیا ہے۔ یہ پوری نظم اگلے صفحہ پر نقل کی جارہی ہے :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader