اسلام میں عدل اجتماعی
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
قصر شاہی میں کہ ممکن نہیں غیروں کا گزر کوئی شامت زدہ رہ گیر اُدھر آنکلا غیرتِ حسن سے بیگم نے طپنچہ مارا ساتھ ہی شاہِ جہانگیر کو پہنچی جو خبر حکم بھیجا کہ کنیزانِ شبستانِ شاہی نخوتِ حسن سے بیگم نے بصد ناز کہا ہاں مجھے واقعہ قتل سے انکار نہیں اس کی گستاخ نگاہی نے کیا اُس کو ہلاک مفتیِ دیں سے جہانگیر نے فتویٰ پوچھا مفتیِ دین نے بے خوف و خطر صاف کہا لوگ دربار میں اِس حکم سے تھرا اٹھے ترکوں کو یہ دیا حکم کہ اندر جا کر پھر اُسی طرح اُسے کھینچ کے باہر لائیں یہ وہی نور جہاں ہے کہ حقیقت میں یہی اِس کی پیشانیِ نازک پہ جو پڑتی تھی گرہ اب نہ وہ نور جہاں ہے نہ وہ اندازِ غرور اب وہی پاؤں ہر اک گام پہ تھراتے ہیں ایک مجرم ہے کہ جس کا کوئی حامی نہ شفیع خدمتِ شاہ میں بیگم نے یہ بھیجا پیغام مفتیِ شرع سے پھر شاہ نے فتویٰ پوچھا وارثوں کو جو دیے لاکھ درم بیگم نے ہم کو مقتول کا لینا نہیں منظور قصاص ہو چکا جب کہ شہنشاہ کو پورا یہ یقیں اٹھ کے دربار سے آہستہ چلا سوئے حرم دفعتاً پاؤں پہ بیگم کے گرا اور یہ کہا ایک دن نور جہاں بام پہ تھی جلوہ فگن گرچہ تھی قصر میں ہر چار طرف سے قدغن خاک پر ڈھیر تھا اک کشتہ بے گور و کفن غیظ سے آگئی ابروئے عدالت پہ شکن جاکے پوچھ آئیں کہ سچ یا کہ غلط ہے یہ سخن میری جانب سے کرو عرض بر آئین حسن مجھ سے ناموس حیا نے یہ کہا تھا کہ بزن کشور حسن میں جاری ہے یہی شرع کہن کہ شریعت میں کسی کو نہیں کچھ جائے سخن شرع کہتی ہے کہ بے تامل کی اڑا دو گردن پر جہانگیر کے ابرو پہ نہ بل تھا نہ شکن پہلے بیگم کو کریں بستہ زنجیر و رسن اور جلاد کو دیں حکم کہ ہاں تیغ بزن تھی جہانگیر کے پردہ میں شہنشاہ زمن جاکے بن جاتی تھی اوراق حکومت پہ شکن نہ وہ غمزے ہیں نہ وہ عربدہ صبر شکن جن کی رفتار سے پامال تھے مرغان چمن ایک بیکس ہے کہ جس کا نہ کوئی گھر نہ وطن خوں بہا بھی تو شریعت میں ہے اک امر حسن بولے جائز ہے ، رضامند ہوں گر بچہ وزن سب نے دربار میں کی عرض کہ اے شاہ زمن قتل کا حکم جو رک جائے تو ہے مستحسن کہ نہیں اس میں کوئی شائبہ حیلہ دفن تھی جہاں نور جہاں معتکف بیت حزن تو اگر کشتہ شدی آہ چہ می کردم من دائیں پاؤں کے پنجے پر اور یہ ہا دائیں سر شدہ راہ پر قدم ن ہے کہ اس کے بعد کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس کے علاوہ یہ کہ اس میں کسی قسم کا کوئی سقم یا نقص نہیں ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader