Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

دلیلِ آخرت

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

ابدی خوشیوں کی دنیا بنائیں، انھوں نے اس بات کی بہت تحقیق کی کہ موت کیوں آتی ہے تا کہ اس کے اسباب کو روک کر زندگی کو جاوداں بنایا جا سکے۔ مگر انھیں اس سلسلے میں قطعی ناکامی ہوئی—ہر مطالعہ نے بالا خر یہی بتایا کہ موت یقینی ہے، اس سے چھٹکارا نہیں۔ ’’موت کیوں آتی ہے‘‘—اس کے تقریباً دو سو جوابات دیے گئے ہیں، جسم ناکارہ ہو جاتا ہے، اجزائے ترکیبی صرف ہو چکتے ہیں، رگیں پتھرا جاتی ہیں، متحرک البومن کی جگہ کم متحرک البومن آ جاتے ہیں، مربوط کرنے والے نسیج بیکار ہو جاتے ہیں، جسم میں آنتوں کے بیکٹیریا کا زہر دوڑ جاتا ہے—وغیرہ وغیرہ۔ جسم کے ناکارہ ہونے کی بات بظاہر درست معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ مشینیں، جوتے کپڑے، سبھی ایک خاص مدت کے بعد ناکارہ ہو جاتے ہیں، اس لیے ہو سکتا ہے کہ پوستین کی طرح ہمارا جسم بھی، جلد یا بدیر پرانا ہو کر ختم ہو جاتا ہو۔ مگر سائنس اس کی تائید نہیں کرتی، سائنسی تشریح کے مطابق انسانی جسم نہ پوستین کی طرح ہوتا ہے، نہ مشین سے ملتا جلتا ہے، اور نہ چٹان سے مشابہ ہے۔ اگر اسے تشبیہ دی جا سکتی ہے، تو دریا سے جو ہزار سال پہلے بھی بہا کرتا تھا، اور آج بھی اسی طرح بہہ رہا ہے، اور کون کہہ سکتا ہے کہ دریا پرانا ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر کیمسٹری کے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر لنس پالنگ نے کہا ہے کہ نظریاتی طور پر انسان بڑی حد تک لافانی ہے، اس کے جسم کے خلیے ایسی مشین ہیں، جو خود بخود اپنی خرابی دور کر لیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انسان بوڑھا ہوتا ہے اور مر جاتا ہے—اس کے اسباب ابھی تک راز بنے ہوئے ہیں۔ ہماری زندگی کی مسلسل تجدید ہوتی رہتی ہے، ہمارے خلیوں میں البومن کے سالے بنتے اور تلف ہوتے اور پھر بنتے رہتے ہیں، خلیے (سواۓ اعصابی خلیوں کے) برابر تلف ہوتے اور ان کی جگہ نئے بنتے رہتے ہیں، اندازہ لگایا گیا ہے کہ کوئی چار مہینے کے عرصے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page