Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

دلیلِ آخرت

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

میں انسان کا خون بالکل ہی نیا ہو جاتا ہے، اور چند سال کے عرصے میں انسانی جسم کے تمام ایٹم پوری طرح بدل جاتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی نوعیت ایک ڈھانچے کی نہیں بلکہ دریا کی سی ہے، یعنی وہ ایک عمل ہے، ایسی حالت میں جسم کے پرانے اور ناکارہ ہونے کے تمام نظریے بے بنیاد ہو جاتے ہیں، وہ تمام چیزیں جو زندگی کے ابتدائی برسوں میں خراب ہو گئی تھیں، زہر آلود اور بیکار ہو چکی تھیں، وہ جسم سے کب کی خارج ہوچکیں ، پھر ان کو موت کا سبب قرار دینا کیا معنیٰ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ موت کا سبب آنتوں اور رگوں اور دل میں نہیں، بلکہ اس کا سبب کہیں اور ہے۔ ایک توجیہ یہ ہے کہ اعصابی خلیے موت کا سبب ہیں، کیوں کہ اعصابی خلیے زندگی بھر وہی رہتے ہیں، یہ کبھی نہیں بدلتے، چنانچہ انسان کے اندر اعصابی خلیے سال بہ سال کم ہوتے جاتے ہیں، اور مجموعی طور پر اعصابی نظام کمزور ہوتا جاتا ہے، اگر یہ توجیہ صحیح ہے، اور اعصابی نظام ہی نظامِ جسمانی کا کمزور حصہ ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ نظامِ جسمانی سب سے زیادہ دنوں تک زندہ رہنا چاہیے جن میں اعصابی نظام ہوتا ہی نہیں۔ مگر مشاہدہ اس کی تائید نہیں کرتا، درخت میں اعصابی نظام نہیں ہوتا اور وہ سب سے زیادہ دنوں تک زندہ رہتا ہے، مگر گیہوں میں بھی اعصاب نہیں تھے مگر وہ صرف سال بھر زندہ رہتا ہے، اور اسی طرح امیبا کیڑے میں بھی اعصاب نہیں ہوتے لیکن وہ صرف آدھ گھنٹہ زندہ رہتا ہے، اسی طرح اس توجیہ کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ نسل کے حیوانات کی عمر، جن کا اعصابی نظام مکمل ترین ہوتا ہے، سب سے زیادہ ہونی چاہیے، مگر ایسا نہیں ہے، مگر مچھ، کچھوا اور پائلٹ مچھلی سب سے لمبی عمر پاتے ہیں۔ موت کو غیر یقینی بنانے کے لیے اس کے اسباب کی جتنی چھان بین کی گئی ہے، وہ سب ناکامی پر ختم ہوئی ہے، اور یہ امکان اب بھی بدستور باقی کہ سارے انسانوں کو ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page