دلیلِ آخرت
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
مقرر مدت پر مرنا ہے۔ ایسا کوئی امکان اب تک ثابت نہ ہوسکا کہ موت نہیں آئے گی۔ ڈاکٹر الیکس کیرل نے اسی مسئلہ پر زمانِ داخلی (inward time) کے عنوان سے لمبی بحث کی ہے، اور اس سلسلے کی کوششوں کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : انسان بقا کی تلاش اور جستجو سے کبھی اکتائے گا، مگر اس کو کبھی یہ چیز حاصل نہیں ہوسکتی، کیوں کہ وہ جسمانی ساخت کے چند قوانین کا پابند ہے، وہ عضویاتی زمان (physiological time) کو روکے اور غالباً ایک حد تک اس کو پیچھے ہٹانے میں کامیاب ہوسکتا ہے (جوانی کی مدت کو بڑھانے اور بڑھاپے کو موخر کرنے میں)، لیکن وہ موت پر فتح نہیں پاسکتا۔ Man the Unknown, p. 175 نظامِ کائنات کی موجودہ شکل کا درہم برہم ہونا بھی ایک ایسی چیز ہے، جو بالکل واقعاتی طور پر سمجھ میں آتی ہے، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ کائنات میں ہم جن چھوٹی چھوٹی قیامتوں سے واقف ہیں، وہی آئندہ کسی وقت زیادہ بڑے پیمانے پر ظاہر ہونے والی ہیں، یہ صرف موجودہ مقامی قیامتوں کے عالمی پیمانے پر واقع ہونے کی پیشین گوئی ہے۔ سب سے پہلا تجربہ جو ہم کو قیامت کے امکان سے باخبر کرتا ہے، وہ زلزلہ ہے، زمین کا اندرونی حصہ نہایت گرم سیال کی شکل میں ہے، جس کا مشاہدہ آتش فشاں پہاڑوں سے نکلنے والے لاوا کی شکل میں ہوتا ہے۔ یہ مادہ مختلف شکلوں میں زمین کی سطح کو متاثر کرتا ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات زمین کے اوپر زبردست گڑگڑاہٹ کی آواز محسوس ہوتی ہے، اور کشمکش کی وجہ سے جھٹکے پیدا ہوتے ہیں— اس کا نام زلزلہ ہے۔ یہ زلزلہ آج بھی انسان کے لیے سب سے زیادہ خوفناک لفظ ہے۔ یہ انسان کے اوپر قدرت کا ایسا حملہ ہے جس میں فیصلے کا اختیار تمام تر دوسرے فریق کو ہوتا ہے۔ زلزلہ کے مقابلے میں انسان بالکل بے بس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader