دلیلِ آخرت
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ یہ زلزلے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم ایک سرخ پگھلے ہوئے نہایت گرم مادے کے اوپر آباد ہیں، جس سے صرف 50 کلومیٹر کی ایک پتلی سی چٹانی تہم کو الگ کرتی ہے، جو زمین کے مقابلے میں ویسی ہی ہے جیسے سیب کے اوپر باریک چھلکا۔ ایک جغرافیہ داں کے الفاظ میں ہمارے آباد شہروں اور نیلے سمندروں کے نیچے ایک قدرتی جہنم (physical hell) دہک رہا ہے، یا یوں کہنا چاہیے کہ ہم ایک عظیم ڈائنا میٹ کے اوپر کھڑے ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ کر سارے نظام ارضی کو درہم برہم کر سکتا ہے۔ George Gamow, Biography of the Earth, p.82 یہ زلزلے دنیا کے تقریباً ہر حصے میں اور ہر روز آتے ہیں، لیکن جغرافیائی اعتبار سے وہ زیادہ تعداد میں وہاں محسوس ہوتے ہیں، جہاں آتش فشاں پہاڑ ہیں۔ سب سے قدیم تباہ کن زلزلہ جس سے تاریخ واقف ہے، وہ چین کے صوبہ شنسی (Shensi) کا زلزلہ ہے، جو 1556 ء میں آیا تھا، اس زلزلے میں آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص ہلاک ہو گئے۔ اسی طرح 1 نومبر 1755ء کو پرتگال میں زلزلہ آیا جس نے لزبن (Lisbon) کا پورا شہر تباہ کر دیا۔ اس زلزلے میں چھ منٹ کے اندر تیس ہزار آدمی ہلاک ہو گئے، تمام عمارتیں مسمار ہو گئیں، اندازہ کیا گیا ہے کہ اس زلزلے میں یورپ کے رقبہ کا چوگنا حصہ ہل گیا تھا، اسی نوعیت کا ایک شدید زلزلہ 1897ء میں آسام میں آیا تھا، جو دنیا کے پانچ انتہائی بڑے زلزلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سے شمالی آسام میں ہولناک تباہی آئی تھی، اس زلزلے نے دریائے برہم پتر کا رخ بدل دیا اور ایورسٹ کی چوٹی ابھر کر سوفٹ اوپر چلی گئی۔ زلزلہ در اصل چھوٹے پیمانے کی قیامت ہے، جب دہشت انگیز گڑگراہٹ کے ساتھ زمین پھٹ جاتی ہے، جب پختہ مکانات تاش کے پتوں کی طرح بکھرنے لگتے ہیں، جب زمین کا اوپری حصہ دھنس جاتا ہے، اور اندرونی حصہ اوپر آجاتا ہے، جب آباد ترین شہر چند

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader