Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

دلیلِ آخرت

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

لمحوں میں وحشت ناک کھنڈر کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، جب انسان کی لاشیں اس طرح ڈھیر ہو جاتی ہیں، جیسے مری ہوئی مچھلیاں زمین کے اوپر پڑی ہوں — یہ زلزلے کا وقت ہوتا ہے، اس وقت انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ قدرت کے مقابلے میں کس قدر بے بس ہے، یہ زلزلے بالکل اچانک آتے ہیں، درحقیقت زلزلے کا المیہ اس امر میں پوشیدہ ہے کہ کوئی بھی شخص یہ پیشین گوئی نہیں کر سکتا کہ زلزلہ کب اور کہاں آئے گا۔ یہ زلزلے گویا اچانک آنے والی قیامت کی پیشگی اطلاع دیتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ زمین کا نظام اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ کسی بھی وقت اس کو توڑ دیا جائے۔ یہی حال بیرونی کائنات کا ہے، کائنات نام ہے، ایک ایسے لامحدود خلا کا جس میں بے انتہا بڑے بڑے آگ کے الاؤ (ستارے) بے شمار تعداد میں اندھا دھند گردش کر رہے ہیں، جیسے بے شمار ٹو کسی فرش پر ہماری تمام سواریوں سے زیادہ تیزی کے ساتھ مسلسل ناچ رہے ہوں ۔ یہ گردش کسی بھی وقت زبردست ٹکراؤ کی صورت اختیار کر سکتی ہے، اس وقت کائنات کی حالت بہت بڑے پیمانے پر ایسی ہی ہوگی جیسے کروڑوں بمبار ہوائی جہاز بموں سے لدے ہوئے فضا میں اڑ رہے ہوں اور یکایک سب کے سب باہم ٹکرا جائیں ، اجرام سماوی کا اس قسم کا ٹکراؤ کسی بھی درجہ میں حیرت انگیز نہیں ہے بلکہ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ وہ آخر ٹکرا کیوں نہیں جاتے، علم افلاک کا مطالعہ بھی اس امکان کی تصدیق کرتا ہے۔ چنانچہ شمسی نظام کے وجود میں آنے کی ایک تو جیہہ اسی قسم کے ٹکراؤ پر کی گئی ہے، اس ٹکراؤ کو اگر ہم بڑے پیمانے پر قیاس کر سکیں تو ہم نہایت آسانی سے زیر بحث امکان کو سمجھ سکتے ہیں، کیوں کہ دراصل اسی واقعہ کا دوسرا نام ”قیامت“ ہے، نظریہ آخرت کا یہ دعویٰ ہے کہ کائنات کا موجودہ نظام ایک روز درہم برہم ہو جائے گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ جو واقعہ کائنات کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page