Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

دلیلِ آخرت

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

اندر ابتدائی شکل میں موجود ہے، وہی ایک روز انتہائی شکل میں پیش آنے والا ہے۔ قیامت کا آنا ہمارے لیے ایک معلوم حقیقت ہے ـــــ فرق صرف یہ ہے کہ آج ہم اسے ا مکان کی حد تک جانتے ہیں ـــــ اور کل اسے واقعہ کی صورت میں دیکھیں گے۔ آخرت کے امکان کے سلسلے میں دوسرا مسئلہ زندگی بعد موت کا مسئلہ ہے، ”کیا مرنے کے بعد بھی کوئی زندگی ہے “ موجودہ ذہن اپنے آپ سے سوال کرتا ہے، اور پھر خود ہی اس کا جواب دیتا ہے ـــــ ”نہیں مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں، کیوں کہ ہم جس زندگی سے واقف ہیں وہ مادی عناصر کی ایک خاص ترتیب کے اندر پائی جاتی ہے، موت کے بعد یہ ترتیب باقی نہیں رہتی، اس لیے موت کے بعد کوئی زندگی بھی نہیں ہوسکتی۔“ ٹی، آر، مائلس (T. R. Miles) موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو محض ایک تمثیلی حقیقت قرار دیتا ہے، اور اس کو ایک لفظی حقیقت (literal truth) کے طور پر ماننے سے انکار کرتا ہے۔ ”میرے نزدیک “ وہ کہتا ہے ” یہ ایک مضبوط مقدمہ ہے کہ مرنے کے بعد آدمی زندہ رہتا ہے، یہ بالکل لفظی طور پر ایک حقیقت ہوسکتی ہے، اور اس قابل ہے تجربے سے اس کا غلط یا صحیح ہونا معلوم کیا جاسکے، مشکل صرف یہ ہے جب تک ہم کو موت نہ آئے ، اس کا قطعی جواب معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، مگر یہ قیاس کرنا ممکن ہے۔“ اب چوں کہ قیاس اس کے خلاف ہے، اس لیے اس کے نزدیک یہ لفظی حقیقت نہیں، وہ قیاس یہ ہے: ”علم الاعصاب (Neurology) کے مطابق خارجی دنیا اور اس سے تعلقات کا علم صرف اس وقت ممکن ہے، جب کہ انسانی دماغ معمول کے مطابق کام کر رہا ہو اور موت کے بعد جب کہ دماغ کی تنظیم منتشر ہوجاتی ہے، اس قسم کا ادراک (awareness) نا ممکن ہے۔“ Religion and the Scientific Outlook, p. 206

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page