Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

دلیلِ آخرت

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر اس سے زیادہ قوی قیاسات دوسرے موجود ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جسم کے ذرات مادی کا انتشار زندگی کو ختم نہیں کرتا، زندگی ایک الگ اور مستقل بالذات چیز ہے، جو ذرات کی تبدیلی کے باوجود باقی رہتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ انسان کا جسم بعض خاص قسم کے اجزا سے مل کر بنا ہے، جس کی مجموعی اکائی کو خلیہ (Cell) کہتے ہیں، یہ خلیے نہایت پیچیدہ ساخت کے چھوٹے چھوٹے ریزے ہیں، جن کی تعداد ایک متوسط قد کے انسان میں تقریباً 26 پدم (26 quadrillion) ہوتی ہے، یہ گویا بے شمار چھوٹی چھوٹی اینٹیں (1) ہیں، جن کے ذریعہ ہمارے جسم کی عمارت تعمیر ہوئی ہے، فرق یہ ہے کہ عمارت کی اینٹیں پوری زندگی بھر وہی کی وہی رہتی ہیں، جو شروع میں اس کے اندر لگائی گئی تھیں، مگر جسم کی اینٹیں ہر وقت بدلتی رہتی ہیں، جس طرح ہر چلنے والی مشین کے اندر گھساؤ (Depreciation) کا عمل ہوتا ہے، اسی طرح ہماری جسمانی مشین بھی گھستی ہے، اور اس کی’’ اینٹیں‘‘ مسلسل ٹوٹ ٹوٹ کر کم ہوتی رہتی ہیں، یہ کمی غذا سے پوری ہوتی ہے، غذا ہضم ہو کر ہمارے جسم کے لیے وہ تمام اینٹیں مہیا کرتی ہے، جو ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ہر روز ہمارے جسم کو درکار ہوتی ہیں گویا جسم نام ہے خلیوں کے ایک ایسے مرکب کا جو ہر آن اپنے آپ کو بدلتا رہتا ہو، اس کی مثال بہتے ہوئے دریا کے ایک گھاٹ کی ہے جو ہر وقت پانی سے بھرا رہتا ہے مگر ہر وقت وہی پانی نہیں ہوتا جو پہلے تھا بلکہ ہر آن وہ اپنے پانی کو بدل دیتا ہے، گھاٹ وہی ہوتا ہے، مگر پانی وہی نہیں رہتا۔ اس طرح ہر آن ہمارے جسم میں ایک تبدیلی ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ ایک وقت (1) خلیہ کو’’اینٹ‘‘ یہاں محض ظاہری مشابہت کی بنا پر کہا گیا ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ خلیہ ایک نہایت پیچیدہ حیاتیاتی مرکب ہے جو خود ایک مکمل جسم رکھتا ہے، اور اس کے مطالعہ کے لیے ایک علیحدہ سائنس وجود میں آچکی ہے، جس کا نام Cytology ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page