دلیلِ آخرت
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
آتا ہے، جب جسم کی پچھلی تمام اینٹیں ٹوٹ کر نکل جاتی ہیں، اور ان کی جگہ مکمل طور پر نئی اینٹیں لے لیتی ہیں، بچے کے جسم میں یہ عمل جلد جلد شروع ہوتا ہے، اور عمر کے بڑھنے سے اس کی رفتار سست ہوتی رہتی ہے، اگر پوری عمر کا اوسط لگایا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر دس سال میں جسم کے اندر یہ تبدیلی واقع ہوتی ہے، ظاہری جسم کے خاتمے کا یہ عمل برابر ہوتا رہتا ہے، مگر اندر کا انسان اسی طرح اپنی اصل حالت میں موجود رہتا ہے، اس کا علم، اس کا حافظہ، اس کی تمنائیں، اس کی عادتیں اس کے تمام خیالات بدستور باقی رہتے ہیں، وہ اپنی عمر کے ہر مرحلے میں اپنے آپ کو وہی سابق ”اننسان“ محسوس کرتا ہے، جو پہلے تھا، حالانکہ اس کی آنکھ، کان ، ناک، ہاتھ، پاؤں غرض ناخن سے بال تک ہر ہر چیز بدل چکی ہوتی ہے۔ اب اگر جسم کے خاتمہ کے ساتھ اس جسم کا انسان بھی مرجاتا ہو تو خلیوں کی تبدیلی سے اسے بھی متاثر ہونا چاہیے، مگر ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوتا، یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ انسان یا انسانی زندگی جسم سے الگ کوئی چیز ہے جو جسم کی تبدیلی اور موت کے باوجود اپنا وجود باقی رکھتی ہے، وہ ایک گھاٹ ہے جس کی گہرائی میں اجسام یا دوسرے الفاظ میں خلیوں کی ایک مسلسل آمد و رفت جاری ہے، چنانچہ ایک سائنس داں نے حیات یا انسانی ہستی کو ایک ایسی مستقل بالذات چیز قرار دیا ہے، جو مسلسل تغیرات کے اندر متغير حالت میں اپنا وجود باقی رکھتی ہے— اس کے الفاظ میں: personality is changelessness in change. اگر موت محض جسم کے خاتمے کا نام ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسے ہر عمل کی تکمیل کے بعد گویا انسان ایک بار مرگیا، اب اگر ہم اس کو دیکھتے ہیں تو یہ دراصل اس کی دوسری زندگی ہے، جو اس نے مر کر حاصل کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پچاس سال کی عمر کا ایک زندہ شخص جو ہمیں چلتا پھرتا نظر آتا ہے، وہ اپنی اس مختصری زندگی میں کم از کم پانچ بار مکمل طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader