Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

دلیلِ آخرت

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

مر چکا ہے۔ پانچ بار کی جسمانی موت سے اگر ایک انسان نہیں مرا تو چھٹی بار کی موت کے بارے میں آخر کیوں یقین کر لیا گیا ہے کہ اس کے بعد وہ لازماً مر جائے گا۔ بعض لوگ اس دلیل کو تسلیم نہیں کریں گے، وہ کہیں گے کہ وہ ذہن یا اندرونی وجود جس کو تم انسان کہتے ہو، وہ دراصل کوئی علیحدہ چیز نہیں ہے بلکہ خارجی دنیا کے ساتھ جسم کے تعلق سے پیدا ہوا ہے، تمام جذبات و خیالات مادی عمل کے دوران میں اسی طرح پیدا ہوتے ہیں، جس طرح دھات کے دو ٹکڑوں کی رگڑ سے حرارت پیدا ہوتی ہے، جدید فلسفہ روح کے مستقل وجود کا انتہائی مخالف ہے۔ جیمز کہتا ہے کہ شعور ایک ہستی (entity) کے طور پر موجود نہیں ہے بلکہ ایک عمل (function) کے طور پر موجود ہے، وہ ایک کارروائی (process) ہے، ہمارے زمانے کے فلسفیوں کی بہت بڑی تعداد نے اصرار کیا ہے کہ شعور اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خارج سے پیدا ہونے والے ایک ہیجان کا عصبی جواب (nervous response) ہے، اس تصور کے مطابق موت یعنی جسمانی نظام کے منتشر ہونے کے بعد انسان کی موجودگی کا کوئی سوال نہیں، کیوں کہ وہ مرکز اعصاب ہی اس کے بعد باقی نہیں رہا، جو خارجی دنیا کے تعامل سے زندگی کا جواب ظاہر کرے نتیجہ یہ نکلا کہ زندگی بعد موت کا تصور بالکل غیر عقلی تصور ہے ــــ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ میں کہوں گا کہ انسان کی حقیقت اگر یہی ہے تو یقیناً ہمارے لیے ممکن ہونا چاہیے کہ ہم ایک زندہ اور باشعور انسان کو پیدا کر سکیں، آج ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ انسان کا جسم کن عناصر سے مل کر بنتا ہے، تمام عناصر بہت کثیر مقدار میں زمین کے اندر اور اس کی فضا میں قابل حصول حالت میں موجود ہیں، ہم نے جسم کے اندرونی نظام کو انتہائی باریک بینی کے ساتھ معلوم کر لیا ہے، آج ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ انسانی جسم کا ڈھانچہ اور اس کے رگ و ریشے کس طرح بنائے گئے ہیں، پھر ہمارے پاس ایسے بے شمار ماہر آرٹسٹ موجود ہیں،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page