Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

دلیلِ آخرت

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

جو کمال درجہ مطابقت کے ساتھ انسان کی مانند ایک جسم بنا کر کھڑا کر دیں، مخالفین روح کو اگر اپنے نظریے پر یقین ہے تو وہ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ بہت سے انسانی جسم تیار کر کے زمین کے مختلف حصوں میں کھڑا کر دیں، اور اس وقت کا انتظار کریں جب خارجی دنیا کے اثرات پڑنے سے یہ ڈھانچے چلنے اور بولنے لگیں گے۔ یہ زندگی کے باقی رہنے کے امکان کی بحث تھی، اب اس مقصد کے اعتبار سے غور کیجیے جس کے لیے مذہب دوسری زندگی کے اوپر عقیدہ رکھتا ہے۔ مذہبی تصور کے مطابق، زندگی کا وجود جرمن فلسفی نشٹے (Friedrich Nietzsche) کے فلسفیانہ "آمد و رفت" کا نام نہیں ہے، جو ریت گھڑی (sand glass clock) کی طرح بس خالی اور پُر ہوتی رہے۔ اس سے آگے اس کا اور کوئی مقصد نہ ہو— بلکہ دوسری زندگی کا ایک عظیم مقصد ہے، اور وہ یہ کہ موجودہ دنیا کی اچھائیوں اور برائیوں کا بدلہ دیا جائے۔ عقیدہ آخرت کا یہ جز ء بھی اس وقت بالکل ممکن نظر آنے لگتا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات میں حیرت انگیز طور پر ہر شخص کا نامہ اعمال رات دن ایک لمحہ کے وقفہ کے بغیر ضبط (record) کیا جا رہا ہے آدمی تین شکلوں میں اپنی ہستی کو ظاہر کرتا ہے— نیت، قول اور عمل، یہ تینوں چیزیں مکمل طور پر محفوظ کی جارہی ہیں، ہمارا ہر خیال، ہماری زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ اور ہماری تمام کارروائیاں کائنات کے پردہ پر اس طرح نقش ہورہی ہیں کہ کسی بھی وقت ان کو نہایت صحت کے ساتھ دہرایا جاسکے، اور یہ معلوم ہو سکے کہ دنیا کی زندگی میں کس نے کیا کہا، کس کی زندگی شر کی زندگی تھی، اور کس کی زندگی خیر کی زندگی۔ جو خیالات ہمارے دل میں گزرتے ہیں، ہم بہت جلد انھیں بھول جاتے ہیں، اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے، مگر جب ہم مدتوں کی ایک بھولی ہوئی بات کو خواب میں دیکھتے ہیں یا ذہنی اختلال کے بعد آدمی ایسی باتیں بولنے لگتا ہے جو ہوش و

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page