Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

دلیلِ آخرت

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

حواس کی حالت میں اس کی زبان سے نہیں سنی گئی تھیں، تو یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ آدمی کا حافظہ اتنا ہی نہیں ہے، جتنا شعوری طور پر وہ محسوس کرتا ہے۔ حافظہ کے کچھ خانے ایسے بھی ہیں، جو بظاہر شعور کی گرفت میں نہیں ہوتے، مگر وہ موجود رہتے ہیں۔ مختلف تجربوں سے ثابت ہوا ہے کہ ہمارے خیالات مستقل طور پر اپنی پوری شکل میں محفوظ رہتے ہیں، حتیٰ کہ ہم چاہیں بھی تو انہیں ختم نہیں کر سکتے۔ یہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ انسانی شخصیت صرف وہی نہیں ہے، جسے ہم شعور کہتے ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس، انسانی شخصیت کا ایک حصہ ایسا بھی ہے، جو ہمارے شعور کی سطح کے نیچے موجود رہتا ہے۔ یہ حصہ جسے سگمنڈ فرائڈ تحت الشعور (Sub-Conscious) یا لاشعور (Unconscious) کا نام دیتا ہے۔ یہ ہماری شخصیت کا بہت بڑا حصہ ہے، نفس انسانی کی مثال سمندر میں تیرتے ہوئے تودۂ برف (iceberg) کی سی ہے، جس کا صرف نواں حصہ پانی کے اوپر دکھائی دیتا ہے، اور بقیہ آٹھ حصے سطح سمندر کے نیچے رہتے ہیں، یہی تحت شعور ہے جو ہمارے تمام خیالات اور ہماری نیتوں کو محفوظ رکھتا ہے، فرائڈ اپنے اکتیسویں لیکچر میں لکھتا ہے: ”منطق کے قوانین (the laws of logic) بلکہ اضداد کے اصول (the law of contradiction) بھی لاشعور (ID) کے عمل پر حاوی نہیں ہوتے، مخالف خواہشات ایک دوسرے کو زائل کیے بغیر اس میں پہلو بہ پہلو ہمیشہ موجود رہتی ہیں— لاشعور میں کوئی ایسی چیز نہیں جو نفی سے مشابہت رکھتی ہو، اور ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ لاشعور کی دنیا میں فلسفیوں کا یہ دعویٰ ہو جاتا ہے کہ ہمارے دماغی افعال وقت اور فاصلہ کے درمیان واقع ہوتے ہیں، لاشعور کے اندر کوئی ایسی چیز نہیں جو وقت کے تصور سے مطابقت رکھتی ہو، لاشعور میں وقت کے گزرنے کا کوئی نشان نہیں اور یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے، جس کے معنی سمجھنے کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page