دلیلِ آخرت
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
طرف ابھی تک فلسفیوں نے پوری توجہ نہیں کی کہ وقت گزرنے سے ذہنی عمل میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، پوشیدہ خیالات (conative impulses) جو کبھی لاشعور سے باہر نہیں آئے بلکہ وہ ذہنی تاثرات بھی جنھیں روک کر لاشعور میں دبا دیا گیا ہو، فی الواقع غیر فانی ہوتے ہیں اور دسیوں سال تک اس طرح محفوظ رہتے ہیں، گویا ابھی کل وجود میں آئے۔ New Introductory Lectures on Psycho-Analysis, London, 1969, p. 99 تحت الشعور کا یہ نظریہ اب نفسیات میں عام طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بات جو آدمی سوچتا ہے، اور ہر اچھا یا برا خیال جو اس کے دل میں گزرتا ہے، وہ سب کا سب نفس انسانی میں اس طرح نقش ہو جاتا ہے کہ پھر کبھی نہیں مٹتا، وقت کا گزرنا یا حالات کا بدلنا اس کے اندر ذرہ برابر کوئی تبدیلی نہیں کرتا یہ واقعہ انسانی ارادہ کے بغیر ہوتا ہے، خواہ انسان اسے چاہے یا نہ چاہے۔ فرائڈ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ نيات اور اعمال کا اس احتیاط اور حفاظت کے ساتھ تحت شعور میں ضبط رہنا کارخانہ قدرت کے اندر کون سے مقصد کو پورا کرتا ہے۔ اس لیے وہ فلسفیوں کو اس مسئلے پر سوچنے کی دعوت دیتا ہے، مگر اس واقعہ کو آخرت کے نظریے کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو فوراً اس کی معنویت سمجھ میں آجاتی ہے، یہ واقعہ صریح طور پر اس امکان کو ظاہر کرتا ہے کہ جب دوسری زندگی شروع ہوگی تو ہر شخص اپنے پورے نامۂ اعمال کے ساتھ وہاں موجود ہوگا، آدمی کا خود اپنا وجود گواہی دے رہا ہوگا کہ کن نیتوں اور کن خیالات کے ساتھ اس نے دنیا میں زندگی بسر کی تھی۔ قرآن میں اس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیدِ (50:16) ۔ یعنی اور ہم نے بنایا انسان کو اور ہم جانتے ہیں جو باتیں آتی رہتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader