Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

دلیلِ آخرت

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں اس کے جی میں، اور ہم اس کے رگ جاں سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ اب قول کے مسئلے کو لیجیے۔ نظریہ آخرت یہ کہتا ہے کہ آدمی اپنے اقوال کے لیے جواب دہ ہے، آپ خواہ بھلی بات کہیں یا کسی کو گالی دیں، آدمی اپنی زبان کو سچائی کا پیغام پہنچانے کے لیے استعمال کرے یا وہ شیطان کا مبلغ بن جائے، ہر حال میں ایک کائناتی انتظام کے تحت اس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کا مکمل ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے۔ قرآن کے الفاظ ہیں: مَّا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (18: 50)۔ یعنی کوئی لفظ انسان نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک نگراں ہر وقت (لکھنے کے لیے) موجود ہے۔ اور یہ ریکارڈ آخرت کی عدالت میں حساب کے لیے پیش ہوگا۔ یہ بھی ایسی چیز ہے جس کا ممکن الوقوع ہونا ہمارے معلوم دنیا کے عین مطابق ہے، ہم جانتے ہیں کہ جب کوئی شخص بولنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت دیتا ہے تو اس حرکت سے ہوا میں لہریں پیدا ہوتی ہیں، جس طرح ساکن پانی میں پتھر پھینکنے سے لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ اگر آپ ایک برقی گھنٹی کو شیشہ کے اندر مکمل طور پر بند کر دیں اور بجلی کے ذریعہ سے اسے بجائیں تو آنکھوں کو وہ گھنٹی بجتی ہوئی نظر آئے گی، مگر آواز سنائی نہیں دے گی۔ کیوں کہ شیشہ بند ہونے کی وجہ سے اس کی لہریں ہمارے کانوں تک نہیں پہنچ رہی ہیں، یہی لہریں ہیں، جو ’’آواز‘‘ کی صورت میں ہمارے کان کے پردے سے ٹکراتی ہیں اور کان کے آلات انھیں اخذ کر کے دماغ تک پہنچادیتے ہیں اور اس طرح ہم بولے ہوئے الفاظ کو سمجھنے لگتے ہیں، جس کو’’سننا‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان لہروں کے بارے میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پیدا ہونے کے بعد مستقل طور پر فضا میں باقی رہتی ہیں، اور یہ ممکن ہے کہ کسی بھی وقت انھیں دہرایا جا سکے، اگر چہ سائنس ابھی اس قابل نہیں ہوئی کہ ان آوازوں یا صحیح تر الفاظ میں ان لہروں کی گرفت کر سکے جو قدیم ترین زمانے سے فضا میں حرکت کر رہی ہیں، اور نہ ابھی تک اس سلسلے میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page