دلیلِ آخرت
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی خاص کوشش ہوئی ہے، تاہم نظری طور پر یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ایسا آلہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے زمانۂ قدیم کی آوازیں فضا سے لے کر اسی طرح سنی جا سکیں جس طرح ہم ریڈیو سیٹ کے ذریعہ ان لہروں کو فضا سے وصول کر کے سنتے ہیں، جو کسی براڈ کاسٹنگ اسٹیشن سے بھیجی گئی ہوں۔ فی الحال اس سلسلے میں جو مشکل ہے، وہ ان کو گرفت کرنے کی نہیں ہے، بلکہ الگ کرنے کی ہے، ایسا آلہ بنانا آج بھی ممکن ہے، جو قدیم آوازوں کو گرفت کر سکے، مگر ابھی ہم کو ایسی کوئی تدبیر نہیں معلوم جس کے ذریعہ سے بے شمار ملی ہوئی آوازوں کو الگ کر کے سنا جا سکے، یہی دقت ریڈیو نشریات میں بھی ہے، مگر اس کو ایک مصنوعی طریقہ اختیار کر کے حل کر لیا گیا ہے، دنیا بھر میں سیکڑوں ریڈیو اسٹیشن ہیں، جو ہر وقت مختلف قسم کے پروگرام نشر کرتے رہتے ہیں، یہ تمام پروگرام ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے ہر وقت ہمارے گرد و پیش گزرتے رہتے ہیں، بظاہر یہ ہونا چاہیے کہ جب ہم ریڈیو کھولیں تو بیک وقت بہت سی ناقابل فہم آوازیں ہمارے کمرے میں گونجنے لگیں، مگر ایسا نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام نشر گاہیں، اپنی اپنی آواز، کو مختلف طولِ موج پر نشر کرتی ہیں، کوئی چھوٹی کوئی بڑی، اس طرح مختلف نشر گاہوں سے نکلی ہوئی آوازیں مختلف طول کی موجوں میں فضا کے اندر پھیلتی ہیں، اب جہاں کی آواز جس میٹر بینڈ پر نشر کی جاتی ہے، اس پر اپنے ریڈیو سٹ کی سوئی گھما کر ہم وہاں کی آواز سن لیتے ہیں۔ اسی طرح غیر مصنوعی آوازوں کو الگ کرنے کا کوئی طریقہ ابھی دریافت نہیں ہوا ہے، ورنہ آج بھی ہم ہر زمانے کی تاریخ کو اس کی اپنی آواز میں سن سکتے تھے، تاہم اس سے یہ امکان قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ آئندہ کبھی ایسا ہو سکتا ہے، اس تجربہ کی روشنی میں نظریۂ آخرت کا یہ جزء، ہمارے لیے بعید از قیاس نہیں رہتا کہ انسان جو کچھ بولتا ہے، وہ سب ریکارڈ ہو رہا ہے، اور اس کے مطابق ایک روز ہر شخص کو جواب دہی کرنی ہوگی۔ ایران کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader