دلیلِ آخرت
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
سابق وزیر اعظم ڈاکٹر مصدق 1953ء میں جب مقدمے کے دوران نظر بند تھے تو ان کے کمرے میں خفیہ طور پر ایسی ریکارڈنگ مشینیں لگادی گئی تھیں، جوہر وقت متحرک رہتی تھیں، اور ان کی زبان سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ کاریکارڈ کرلیتی تھیں تا کہ عدالت میں ان کو ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ ہمارا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسی طرح ہر شخص کے ساتھ خدا کے فرشتے یادوسرے لفظوں میں بہت غیر مرئی محافظین (recorders) لگے ہوئے ہیں، جو ہمارے منہ سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ کو نہایت درجہ صحت کے ساتھ کائنات کی پلیٹ پر نقش کررہے ہیں۔ تا کہ بوقت ضرورت انھیں آفاقی عدالت میں پیش کیا جائے۔ اب عمل کے مسئلہ کو لیجیے۔ اس سلسلے میں بھی ہماری معلومات حیرت انگیز طور پراس کا ممکن الوقوع ہونا ثابت کرتی ہیں، سائنس بتاتی ہے کہ ہمارے اعمال، خواہ وہ اندھیرے میں کیے گئے ہوں یا اجالے میں، تنہائی میں ان کا ارتکاب ہوا ہو یا مجمع کے اندر، سب کے سب فضا میں تصویری حالت میں موجود ہیں، اور کسی بھی وقت ان کو یکجا کر کے ہر شخص کا پورا کارنامہ حیات معلوم کیا جاسکتا ہے۔ جدید تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ہر چیز خواہ وہ اندھیرے میں ہو یا اجالے میں، ٹھہری ہوئی ہو یا حرکت کر رہی ہو، جہاں یا جس حالت میں ہو، اپنے اندر سے مسلسل حرارت خارج کرتی رہتی ہے، یہ حرارت چیزوں کے ابعاد واشکال کے اعتبار سے اس طرح نکلتی ہے کہ وہ بعینہ اس چیز کا عکس ہوتی ہے، جس سے وہ نکلی ہے، جس طرح آواز کی لہریں اس مخصوص تھر تھراہٹ کا عکس ہوتی ہیں، جو کسی زبان پر جاری ہوئی تھی، چنانچہ ایسے کیمرے ایجاد کیے گئے ہیں، جو کسی چیز سے نکلی ہوئی حرارتی لہروں (heat waves) کو اخذ کر کے اس کی اس مخصوص حالت کا فوٹو تیار کر دیتے ہیں جب کہ وہ لہریں اس سے خارج ہوئی تھیں، مثلاً میں اس وقت ایک مسجد میں بیٹھا ہوا لکھ رہا ہوں، اس کے بعد میں یہاں سے چلا جاؤں گا، مگر یہاں اپنی موجودگی کے دوران میں نے جو حرارتی لہریں خارج کی ہیں، وہ بدستور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader