دلیلِ آخرت
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
موجود رہیں گی اور حرارت دیکھنے والی مشین کی مدد سے خالی شدہ مقام سے میرا مکمل فوٹو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس وقت جو کیمرے بنے ہیں وہ چند گھنٹے بعد ہی تک کسی لہر کا فوٹو لے سکتے ہیں، اس کے بعد کی لہروں کا عکس اتارنے کی طاقت ان میں نہیں ہے۔ ان کیمروں میں انفرا رڈ (infrared) شعاعوں سے کام لیا جاتا ہے، اس لیے وہ اندھیرے اور اجالے میں یکساں فوٹو لے سکتی ہیں، امریکا اور انگلینڈ میں اس دریافت سے کام لینا شروع ہو گیا ہے، چند سال پہلے کی بات ہے، ایک رات نیویارک کے اوپر ایک پراسرار ہوائی جہاز چکر لگا رہا تھا، پھر وہ چلا گیا۔ اس کے فوراً بعد مذکورہ بالا کیمرے کے ذریعہ فضا سے اس کی حرارتی تصویر لی گئی، اس کے مطالعہ کے بعد معلوم ہو گیا کہ اڑنے والا جہاز کس ساخت کا تھا (ریڈر ڈائجسٹ، نومبر 1960ء)۔ اس کیمرے کو مصور حرارت (evaporagraph) کہتے ہیں۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے ہندوستان ٹائمز، نئی دہلی نے لکھا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ ہم ماضی کی تاریخ کو پردہ فلم کے اوپر دیکھ سکیں گے اور ہو سکتا ہے کہ پچھلے ادوار کے بارے میں ایسے ایسے انکشافات ہوں جو ہماری موجودہ تاریخی نظریات کو بالکل بدل ڈالیں۔ یہ ایک حیرت انگیز دریافت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح فلم سٹوڈیو میں نہایت تیز رفتار کیمرے ایکٹروں اور ایکٹرسوں کی تمام حرکات وسکنات کی تصویر لیتے رہتے ہیں، اسی طرح عالمی پیمانے پر ہر شخص کی زندگی فلمائی جا رہی ہے، آپ خواہ کسی کو تھپڑ ماریں یا کسی غریب کا بوجھ اٹھا دیں، اچھے کام میں مصروف ہوں یا برے کام کے لیے دوڑ دھوپ کر رہے ہوں، اندھیرے میں ہوں یا اجالے میں، جہاں اور جس حال میں ہوں، ہر وقت آپ کا تمام عمل کائنات کے پردہ پر نقش ہو رہا ہے، آپ اسے روک نہیں سکتے، اور جس طرح فلم سٹوڈیو میں دہرائی ہوئی کہانی کو اس کے بہت بعد اور اس سے بہت دور رہ کر ایک شخص اسکرین پر اس طرح دیکھتا ہے گو یا وہ عین موقع واردات پر موجود ہو، ٹھیک اسی طرح ہر شخص

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader