مذہب اور جدید چیلنج
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
نے جو کچھ کیا ہے اور جن واقعات کے درمیان اس نے زندگی گزاری ہے، اس کی پوری تصویر ایک روز اس کے سامنے اس طرح آسکتی ہے کہ اس کو دیکھ کر وہ پکارا اُٹھے : مَالِهٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَلَا كَبِيْرَةً اِلَّا اَحْصَاهَا (18:49)۔ یعنی یہ کیسا دفتر ہے جس نے میرا چھوٹا بڑا کوئی کام بھی درج کیے بغیر نہیں چھوڑا۔ اوپر کی تفصیلات سے معلوم ہوا کہ دنیا میں ہر انسان کا مکمل اعمال نامہ تیار کیا جارہا ہے جو خیال بھی آدمی کے دل میں گزرتا ہے، وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتا ہے، اس کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ نہایت صحت کے ساتھ ریکارڈ ہورہا ہے، ہر آدمی کے ارد گرد ایسے کیمرے لگے ہوئے ہیں جو اندھیرے اور اجالے کی تمیز کے بغیر شب و روز اس کی فلم تیار کر رہے ہیں، گویا انسان کا قلبی عمل ہو یا لسانی عمل یا عضوی عمل، ہر ایک نہایت باقاعدگی کے ساتھ درج کیا جا رہا ہے، اس حیرت انگیز صورت حال کی توجیہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتی کہ خدا کی عدالت میں ہر انسان کا جو مقدمہ پیش ہونے والا ہے، یہ سب اس کی شہادت فراہم کرنے کے انتظامات ہیں، جو خود عدالت کی طرف سے کیے گئے ہیں، کوئی بھی شخص ان واقعات کی اس سے زیادہ معقول توجیہ پیش نہیں کر سکتا، اب یہ صریح واقعہ بھی آدمی کو آخرت میں ہونے والی باز پرس کا یقین نہیں دلاتا، تو مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سا واقعہ ہوگا جو اس کی آنکھ کھولے گا۔ تقاضا اوپر ہم نے آخرت کے تصور پر اس حیثیت سے بحث کی ہے کہ موجودہ کائنات میں کیا اس قسم کی کسی آخرت کا واقع ہونا ممکن ہے جس کا مذہب میں دعویٰ کیا گیا ہے، اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ آخرت قطعی طور پر ممکن الوقوع ہے، اب یہ دیکھیے کہ کیا ہماری دنیا کو اس قسم کی آخرت کی کوئی ضرورت بھی ہے، کیا کائنات اپنے موجودہ ڈھانچہ کے اعتبار سے تقاضا کرتی ہے کہ آخرت لازماً وقوع میں آئے؟

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader