Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تقاضا

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

سب سے پہلے نفسیاتی پہلو کو لیجیے ۔ ٹنگھم نے اپنی کتاب (Plato's Apology) میں زندگی بعد موت کے عقیدے کو خوش کن لاادریت (cheerful agnosticism) کہا ہے ۔ یہی موجودہ زمانے میں تمام بے خدا مفکرین کا نظریہ ہے ، ان کا خیال ہے کہ دوسری زندگی کا عقیدہ انسان کی اس ذہنیت نے پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے لیے ایک ایسی دنیا تلاش کرنا چاہتا ہے جہاں وہ موجودہ دنیا کی محدودیتوں اور مشکلات سے آزاد ہو کر خوشی اور فراغت کی ایک دل پسند زندگی حاصل کر سکے ، یہ عقیدہ انسان کی محض ایک مفروضہ خوش فہمی ہے ، جس کے ذریعہ وہ اس خیالی تسکین میں مبتلا رہنا چاہتا ہے کہ مرنے کے بعد وہ اپنی محبوب زندگی کو پالے گا ، ورنہ جہاں تک حقیقت واقعہ کا تعلق ہے ، ایسی کوئی دنیا واقعہ میں موجود نہیں ہے مگر انسان کی یہ طلب بذات خود آخرت کا ایک نفسیاتی ثبوت ہے ، طرح پیاس کا لگنا پانی کی موجودگی اور پانی اور انسان کے درمیان ربط کا ایک داخلی ثبوت ہے ، اسی طرح ایک بہتر دنیا کی طلب اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسی ایک دنیا فی الواقع موجود ہے ، اور ہم سے اس کا براہ راست تعلق ہے تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم ترین زمانے سے عالمگیر پیمانے پر یہ طلب انسان کے اندر موجود ہی ہے ، اب یہ نا قابل قیاس ہے کہ ایک بے حقیقت چیز اتنے بڑے پیمانے پر اور اس قدر ابدی شکل میں انسان کو متاثر کر دے ، ایک ایسا واقعہ جو ہمارے لیے اس امکان کا قرینہ پیدا کرتا ہے کہ دوسری بہتر دنیا موجود ہونی چاہیے ، خود اسی واقعہ کو فرضی قرار دینا صریح ہٹ دھرمی کے سوا اور کچھ نہیں ۔ جو لوگ اتنے بڑے نفسیاتی تقاضے کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ غیر حقیقی ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ پھر اس زمین پر وہ کون سا واقعہ ہے جسے وہ کو وہ حقیقی سمجھتے ہیں ، اور اگر سمجھتے ہیں تو اس کے لیے ان کے پاس کیا دلیل ہے ۔ یہ خیالات اگر صرف ماحول کا نتیجہ ہیں تو وہ انسانی جذبات کے ساتھ اتنی مطابقت کیوں رکھتے ہیں کیا دوسری کسی ایسی چیز کی مثال دی جاسکتی ہے ، جو ہزاروں سال کے دوران میں اس قدر تسلسل کے ساتھ انسانی جذبات کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page