تقاضا
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتھ اپنی مطابقت باقی رکھ سکی ہو، کیا کوئی بڑے سے بڑا قابل شخص یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ ایک فرضی چیز گڑھے اور اس کو انسانی نفسیات میں اس طرح شامل کردے، جس طرح یہ احساسات انسانی نفسیات میں سموئے ہوئے ہیں۔ انسان کی بہت سے تمنائئیں ہیں، جو اس دنیا میں پوری نہیں ہوتیں۔ انسان ایک ایسی دنیا چاہتا ہے جہاں صرف زندگی ہو، مگر اسے ایک ایسی دنیا ملی ہے، جہاں زندگی کے ساتھ موت کا قانون بھی نافذ ہے، یہ کتنی عجیب بات ہے کہ آدمی اپنے علم، تجربہ اور جدوجہد کے نتیجہ میں جب اپنی کامیاب ترین زندگی کے آغاز کے قابل ہوتا ہے، اسی وقت اس کے لیے موت کا پیغام آجاتا ہے، لندن کے کامیاب تاجروں کے متعلق اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 45-65 سال کے عمر کے درمیان جب وہ اپنا کاروبار خوب جما لیتے ہیں، اور پانچ ہزار تا دس ہزار پونڈ (ایک لاکھ روپے سے زیادہ) سالانہ کما رہے ہوتے ہیں، اس وقت اچانک ایک روز ان کے دل کی حرکت بند ہوجاتی ہے، اور وہ اپنے پھیلے ہوئے کاروبار کو چھوڑ کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، ونوڈ ریڈی (Winwood Reade) لکھتا ہے: ”یہ ہمارے لیے ایک غور طلب مسئلہ ہے کہ کیا خدا سے ہمارا کوئی ذاتی رشتہ ہے، کیا اس دنیا کے علاوہ کوئی اور دنیا ہے، جہاں ہمارے عمل کے مطابق ہم کو بدلہ دیا جائے گا، یہ نہ صرف فلسفہ کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، بلکہ یہ خود ہمارے لیے سب سے بڑا عملی سوال ہے، ایک ایسا سوال جس سے ہمارا مفاد بہت زیادہ وابستہ ہے، موجودہ زندگی بہت مختصر ہے، اور اس کی خوشیاں بہت معمولی ہیں، جب ہم وہ کچھ حاصل کر لیتے، جو ہم چاہتے ہیں تو موت کا وقت قریب آچکا ہوتا ہے، اگر یہ واضح ہو سکے کہ ایک خاص طریقہ پر زندگی گزارنے سے دائمی خوشی حاصل ہوسکتی ہے تو بیوقوف یا پاگل کے علاوہ کوئی بھی شخص اس طرح زندگی گزارنے سے انکار نہیں کرے گا۔“ Martyrdom of Man, p. 414

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader