تقاضا
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر یہی مصنف فطرت کی اتنی بڑی پکار کو ایک معمولی سے اشکال کی بنا پر رد کر دیتا ہے: ’’یہ نظریہ اس وقت تک بظاہر بڑا معقول نظر آتا تھا، جب تک گہرائی کے ساتھ ہم نے اس کی تحقیق نہیں کی تھی، مگر جب ایسا کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ محض ایک لغو(absurd) بات ہے، اور اس کی لغویت کو بآسانی ثابت کیا جا سکتا ہے۔— محروم العقل آدمی جو کہ اپنے گناہوں کا ذمہ دار نہیں ہے، وہ تو جنت میں جائے گا، مگر گوٹے اور روسو جیسے لوگ جہنم میں جلیں گے ! اس لیے محروم العقل پیدا ہونا اس سے اچھا ہے کہ آدمی گوٹے اور روسو کی شکل میں پیدا ہو، اور یہ بات بالکل لغو ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ 415) یہ ویسی ہی بات ہے جیسے لارڈ کلون (1907-1824, Lord Kelvin) نے میکس ویل (1879-1831ء) کی تحقیق کو ماننے سے انکار کر دیا تھا، لارڈ کلون کا کہنا تھا کہ ’’جب تک میں کسی چیز کا مشینی ماڈل (mechanical model) نہیں بنا لیتا، میں اسے سمجھ نہیں سکتا‘‘۔ اس بنا پر اس نے روشنی کے متعلق میکسویل کے برقی مقناطیسی نظریے کو قبول نہیں کیا۔ کیوں کہ وہ اس کے مادی فریم میں نہیں آتی تھی۔ طبیعیات کی دنیا میں آج یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔— جے، ڈبلیو، این سولیون (J.W.N. Sullivan) کے الفاظ میں— ’’ایک شخص کیوں ایسا خیال کرے کہ فطرت کو ایک ایسی نوعیت کی چیز ہونا چاہیے جس کو انیسویں صدی کا ایک انجینئر اپنے کارخانہ میں ڈھال سکتا ہو‘‘۔ The Limitation of Science, p. 9 یہی بات میں ون وُڈ (Winwood Reade) کے مندرجہ بالا اعتراض کے بارے میں کہوں گا— ’’بیسویں صدی کا ایک فلسفی آخر یہ سمجھنے کا کیا حق رکھتا ہے کہ خارجی دنیا کو اس کے اپنے مزعومات کے مطابق ہونا چاہیے۔‘‘

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader