تقاضا
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
مصنف کی سمجھ میں اتنی موٹی سی بات نہیں آئی کہ حقیقت واقعہ خارج کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ خود خارج حقیقت واقعہ کا محتاج ہوتا ہے: جب حقیقت یہ ہے کہ اس کا ئنات کا ایک خدا ہے، اور اس کے سامنے حساب کتاب کے لیے ہمیں حاضر ہونا ہے تو پھر ہر شخص کو خواہ وہ روسو (1778-1712ء) ہو یا ایک معمولی شہری، خدا کا وفادار بن کر زندگی گزارنی چاہیے۔ ہماری کامیابی حقیقت سے موافقت کرنے میں ہے، نہ کہ اس کے خلاف چلنے میں۔ ون وُڈ (Winwood) روسو اور گوٹے (1749-1832ء) سے یہ نہیں کہتا کہ وہ اپنے آپ کو حقیقت واقعه کے مطابق بنائیں، بلکہ وہ حقیقت واقعہ سے چاہتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بدل ڈالے، اور جب وہ اندر تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوتی تو حقیقت واقعہ کو لغو (absurd) قرار دیتا ہے۔ حالانکہ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص جنگی راز کے تحفظ کے قانون کو اس بنا پر لغو قرار دے کہ اس کی رو سے بعض اوقات ایک معمولی سپاہی کا کام قابل تعریف قرار پاتا ہے، اور روزن برگ جیسے ممتاز سائنس داں اور اس کی نوجوان اور تعلیم یافتہ بیوی (Rosenberg Pair) کو بجلی کی کرسی پر بٹھا کر پھانسی دے دی جاتی ہے۔ ساری معلوم دنیا کے اندر صرف انسان ایک ایسا وجود ہے، جو اپنے اختیار و ارادے کے تحت کل (Tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ یہ صرف انسان کی خصوصیت ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے اور اپنے آئندہ حالات کو شعوری طور پر بہتر بنانا چاہتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بہت سے جانور بھی کل‘‘ کے لیے عمل کرتے ہیں۔ مثلاً چیونٹیاں گرمی کے موسم میں جاڑے کے لیے خوراک جمع کرتی ہیں یا بیا (Baya Weaver) اپنے آئندہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader