Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تقاضا

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

پیدا ہونے والے بچوں کے لیے گھونسلا بناتا ہے۔ مگر جانوروں کا اس قسم کا عمل محض جبلّت (instinct) کے تحت غیرشعوری طور پر ہوتا ہے، وہ ’’کل‘‘ کی ضرورتوں کو سوچ کر بالقصد ایسا نہیں کرتے، بلکہ وہ بلا ارادہ طبعی طور پر انجام دیتے ہیں، اور بطور نتیجہ وہ ان کے مستقبل میں انھیں کام آتا ہے۔ ’’کل‘‘ کو ذہن میں رکھ کر اس کی خاطر سوچنے کے لیے تصوری فکر (conceptual thought) کی صلاحیت درکار ہے، اور یہ صرف انسان کی خصوصیت ہے کسی دوسرے جاندار کو تصوری فکر کی خصوصیت حاصل نہیں۔ انسان اور دوسری مخلوقات کا یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ انسان کو دوسری تمام چیزوں سے زیادہ مواقع ملنے چاہئیں، جانوروں کی زندگی صرف آج کی زندگی ہے، وہ زندگی کا کوئی ’’کل‘‘ نہیں رکھتے مگر انسان کا مطالعہ صاف طور پر بتاتا ہے کہ اس کے لیے ایک ’’کل‘‘ ہونا چاہیے، ایسا نہ ہونا نظام فطرت کے خلاف ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ زندگی میں ہماری ناکامیاں، عام طور پر، ہم کو اس سے بہتر ایک زندگی کی توقع کی طرف لے جاتی ہیں، ایک خوش حال فضا میں ایسا عقیدہ باقی نہیں رہ سکتا، روم کے غلام، مثال کے طور پر بہت بڑی تعداد میں عیسائی ہو گئے۔ کیوں کہ عیسائیت ان کو مرنے کے بعد خوشی حاصل ہونے کی امید دلاتی تھی۔ یہ یقین کیا جاتا ہے کہ سائنس کی ترقی سے انسان کی خوشی اور خوشحالی بڑھے گی، اور بالآخر دوسری زندگی کا تصور ختم ہو جائے گا۔ مگر سائنس اور ٹیکنالوجی کی چار سو سالہ تاریخ اس کی تصدیق نہیں کرتی، ٹیکنالوجی کی ترقی نے سب سے پہلے دنیا کو جو چیز دی وہ یہ تھا کہ سرمایہ رکھنے والے محدود گروہ کو ایسے وسائل و ذرائع ہاتھ آگئے جس کے بل پر وہ چھوٹے کاریگروں اور پیشہ وروں کو ختم کر کے دولت کا تمام بہاؤ اپنی طرف کر لیں اور عام باشندوں کو محض اپنا محتاج مزدور بنا کر رکھ دیں، اس انجام کے ہولناک مناظر مارکس کی کتاب ’’کیپیٹل‘‘ میں تفصیل کے ساتھ دیکھے جاسکتے ہیں، جو گویا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page